Poetry
- اک پریشانی الگ تھی اور پشیمانی الگعمر بھر کرتے رہے ہم دودھ اور پانی الگTafzeel Ahmad (b. 1954)
- پہاڑوں کو بچھا دیتے کہیں کھائی نہیں ملتیمگر اونچے قدم رکھنے کو اونچائی نہیں ملتیTafzeel Ahmad (b. 1954)
- تنہا کر کے مجھ کو صلیب سوال پہ چھوڑ دیامیں نے بھی دنیا کو اس کے حال پہ چھوڑ دیاTafzeel Ahmad (b. 1954)
- خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دےتصویر وہ حاذق ہے جو بیمار بھی کر دےTafzeel Ahmad (b. 1954)
- ستم ظریفی کی صورت نکل ہی آتی ہےرقیب کی بھی ضرورت نکل ہی آتی ہےTafzeel Ahmad (b. 1954)
- شہر کو چوٹ پہ رکھتی ہے گجر میں کوئی چیزبلیاں ڈھونڈھتی رہتی ہیں کھنڈر میں کوئی چیزTafzeel Ahmad (b. 1954)
- کشتیوں کے کھلکھلاتے بادبانوں کی طرحرات بھر اگتے ہیں چہرے گم خزانوں کی طرحTafzeel Ahmad (b. 1954)
- گھنے ارمان گاڑھی آرزو کرنے سے ملتا ہےخدا جاڑے کی راتوں میں وضو کرنے سے ملتا ہےTafzeel Ahmad (b. 1954)
- لب منطق رہے کوئی نہ چشم لن ترانی ہوزمیں پھر سے مرتب ہو فلک پر نظر ثانی ہوTafzeel Ahmad (b. 1954)
- لہروں میں بھنور نکلیں گے محور نہ ملے گاہر موج میں پانی بھی برابر نہ ملے گاTafzeel Ahmad (b. 1954)
- محور پہ بھی گردش مری محور سے الگ ہواس بحر میں تیروں جو سمندر سے الگ ہوTafzeel Ahmad (b. 1954)
- ملا کسی سے نہ اچھا لگا سخن اس باربنا ہے لاشوں کے اعضا سے یہ بدن اس بارTafzeel Ahmad (b. 1954)
- وہی بے لباس کیاریاں کہیں بیل بوٹوں کے بل نہیںتجھے کیا بلاؤں میں باغ میں کسی پیڑ پر کوئی پھل نہیںTafzeel Ahmad (b. 1954)
- فرات چشم پہ ہے کربلا کی طغیانیدرون کوفۂ دل عید کرنے آیا ہوںTafzeel Ahmad (b. 1954)
- کیا شے ہے کھینچ لیتی ہے شب کو سر فلکپھر صبح جوڑتی ہے دوبارہ زمین سےTafzeel Ahmad (b. 1954)