Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اک پریشانی الگ تھی اور پشیمانی الگعمر بھر کرتے رہے ہم دودھ اور پانی الگTafzeel Ahmad (b. 1954)
  2. پہاڑوں کو بچھا دیتے کہیں کھائی نہیں ملتیمگر اونچے قدم رکھنے کو اونچائی نہیں ملتیTafzeel Ahmad (b. 1954)
  3. تنہا کر کے مجھ کو صلیب سوال پہ چھوڑ دیامیں نے بھی دنیا کو اس کے حال پہ چھوڑ دیاTafzeel Ahmad (b. 1954)
  4. خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دےتصویر وہ حاذق ہے جو بیمار بھی کر دےTafzeel Ahmad (b. 1954)
  5. ستم ظریفی کی صورت نکل ہی آتی ہےرقیب کی بھی ضرورت نکل ہی آتی ہےTafzeel Ahmad (b. 1954)
  6. شہر کو چوٹ پہ رکھتی ہے گجر میں کوئی چیزبلیاں ڈھونڈھتی رہتی ہیں کھنڈر میں کوئی چیزTafzeel Ahmad (b. 1954)
  7. کشتیوں کے کھلکھلاتے بادبانوں کی طرحرات بھر اگتے ہیں چہرے گم خزانوں کی طرحTafzeel Ahmad (b. 1954)
  8. گھنے ارمان گاڑھی آرزو کرنے سے ملتا ہےخدا جاڑے کی راتوں میں وضو کرنے سے ملتا ہےTafzeel Ahmad (b. 1954)
  9. لب منطق رہے کوئی نہ چشم لن ترانی ہوزمیں پھر سے مرتب ہو فلک پر نظر ثانی ہوTafzeel Ahmad (b. 1954)
  10. لہروں میں بھنور نکلیں گے محور نہ ملے گاہر موج میں پانی بھی برابر نہ ملے گاTafzeel Ahmad (b. 1954)
  11. محور پہ بھی گردش مری محور سے الگ ہواس بحر میں تیروں جو سمندر سے الگ ہوTafzeel Ahmad (b. 1954)
  12. ملا کسی سے نہ اچھا لگا سخن اس باربنا ہے لاشوں کے اعضا سے یہ بدن اس بارTafzeel Ahmad (b. 1954)
  13. وہی بے لباس کیاریاں کہیں بیل بوٹوں کے بل نہیںتجھے کیا بلاؤں میں باغ میں کسی پیڑ پر کوئی پھل نہیںTafzeel Ahmad (b. 1954)
  14. فرات چشم پہ ہے کربلا کی طغیانیدرون کوفۂ دل عید کرنے آیا ہوںTafzeel Ahmad (b. 1954)
  15. کیا شے ہے کھینچ لیتی ہے شب کو سر فلکپھر صبح جوڑتی ہے دوبارہ زمین سےTafzeel Ahmad (b. 1954)