Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ان پہ رشک آتا ہے یہ لوگ ہیں قسمت والےراہ میں تیری مٹے تیری محبت والےشاہ اکبر داناپوری
  2. اے صنم مجھ کو کسی سے بھی سروکار نہیں بخدا تیرے سوادین و ایماں سے بھی مطلب مجھے زنہار نہیں میں تو بندہ ہوں تراشاہ اکبر داناپوری
  3. ترک کی جائے گی مدت کی رفاقت کیسےچھوڑ دے گی مجھے تو اے شب فرقت کیسےشاہ اکبر داناپوری
  4. جب یاد کیا اس نے پھر کس کی فراموشییوں آتے ہیں ہوش اکبرؔ یوں جاتی ہے بے ہوشیشاہ اکبر داناپوری
  5. خوں کے پیاسے ہیں وہاں ابروئے خم دار جداتیز کرتی ہے چھری یاں مژۂ یار جداشاہ اکبر داناپوری
  6. خیمہ ڈالے ہوئے رہرو ہے پڑا ایک سے ایککس تکلف کی ہے دنیا میں سرا ایک سے ایکشاہ اکبر داناپوری
  7. دنیا دیکھی زمانہ دیکھاتجھ کو سب میں یگانہ دیکھاشاہ اکبر داناپوری
  8. ڈھونڈ لیتا جو انہیں ڈھونڈھنے والا ہوتادیکھ لیتا جو کوئی دیکھنے والا ہوتاشاہ اکبر داناپوری
  9. رقیب جوڑ چلا تم ملال کر بیٹھےکدھر خیال گیا کیا خیال کر بیٹھےشاہ اکبر داناپوری
  10. سرسری بھی ہے کارگر بھی ہےیہ کٹاری بھی ہے نظر بھی ہےشاہ اکبر داناپوری
  11. سرمہ جو زیب چشم سیہ فام ہو گیافتنہ سوار ابلق ایام ہو گیاشاہ اکبر داناپوری
  12. شکل جب بس گئی آنکھوں میں تو چھپنا کیسادل میں گھر کر کے مری جان یہ پردا کیساشاہ اکبر داناپوری
  13. عاشق دعا کرے تو یہی اک دعا کرےدو دل ملیں تو پھر نہ جدا ہوں خدا کرےشاہ اکبر داناپوری
  14. عاشقو پاؤں نہ اکھڑے وہیں ٹھہرے رہناپردہ اٹھتا ہے رخ یار سے سنبھلے رہناشاہ اکبر داناپوری
  15. کوئی ارمان مرے دل کا نکلنے نہ دیاشوخیوں نے تری فقرہ بھی تو چلنے نہ دیاشاہ اکبر داناپوری
  16. مجھ سے دل آپ کا مکدر ہےایسا جینا مجھے بھی دوبھر ہےشاہ اکبر داناپوری
  17. واہ کس رنگ پہ ہے رنگ بہار عارضباغ فردوس کا ہر پھول نثار عارضشاہ اکبر داناپوری
  18. ہزاروں راز نہاں ہیں دہن کے پردے میںکروڑوں نکتہ ہیں اک اک سخن کے پردے میںشاہ اکبر داناپوری
  19. ہوں وہ مومن جسے ایماں سے سروکار نہیںوہ برہمن ہوں جسے حاجت زنار نہیںشاہ اکبر داناپوری
  20. پھونکی تپ فراق نے یہ تن بدن میں آگاب جسم کی جگہ ہے مرے پیرہن میں آگشاہ اکبر داناپوری
  21. تو نے خنجر مری گردن پہ نہ پھیرا اچھااچھا اچھا ارے او جان کے لیوا اچھاشاہ اکبر داناپوری
  22. جاگا وہاں نصیب عدو کا تمام راتمیں بے قراریوں سے نہ سویا تمام راتشاہ اکبر داناپوری
  23. جو بنے آئنہ وہ تیرا تماشہ دیکھےاپنی صورت میں ترے حسن کا جلوہ دیکھےشاہ اکبر داناپوری
  24. کس قدر دھیان ہے اے کاکل پیچاں تیرااپنے سایہ سے الجھتا ہے پریشان تیراشاہ اکبر داناپوری
  25. محو ایسا تری صورت میں ہے شیدا تیرادیکھتا ہے وہ ہر اک شکل میں جلوہ تیراشاہ اکبر داناپوری
  26. موسیٰ ہیں ہمیں جلوۂ دیدار ہمیں ہیںہیں طور ہمیں نور ہمیں نار ہمیں ہیںشاہ اکبر داناپوری
  27. نکلی جو روح جسم سے پھر ہے بدن میں کیاجب شمع بجھ گئی تو رہا انجمن میں کیاشاہ اکبر داناپوری