Poetry
- ان پہ رشک آتا ہے یہ لوگ ہیں قسمت والےراہ میں تیری مٹے تیری محبت والےشاہ اکبر داناپوری
- اے صنم مجھ کو کسی سے بھی سروکار نہیں بخدا تیرے سوادین و ایماں سے بھی مطلب مجھے زنہار نہیں میں تو بندہ ہوں تراشاہ اکبر داناپوری
- ترک کی جائے گی مدت کی رفاقت کیسےچھوڑ دے گی مجھے تو اے شب فرقت کیسےشاہ اکبر داناپوری
- جب یاد کیا اس نے پھر کس کی فراموشییوں آتے ہیں ہوش اکبرؔ یوں جاتی ہے بے ہوشیشاہ اکبر داناپوری
- خوں کے پیاسے ہیں وہاں ابروئے خم دار جداتیز کرتی ہے چھری یاں مژۂ یار جداشاہ اکبر داناپوری
- خیمہ ڈالے ہوئے رہرو ہے پڑا ایک سے ایککس تکلف کی ہے دنیا میں سرا ایک سے ایکشاہ اکبر داناپوری
- دنیا دیکھی زمانہ دیکھاتجھ کو سب میں یگانہ دیکھاشاہ اکبر داناپوری
- ڈھونڈ لیتا جو انہیں ڈھونڈھنے والا ہوتادیکھ لیتا جو کوئی دیکھنے والا ہوتاشاہ اکبر داناپوری
- رقیب جوڑ چلا تم ملال کر بیٹھےکدھر خیال گیا کیا خیال کر بیٹھےشاہ اکبر داناپوری
- سرسری بھی ہے کارگر بھی ہےیہ کٹاری بھی ہے نظر بھی ہےشاہ اکبر داناپوری
- سرمہ جو زیب چشم سیہ فام ہو گیافتنہ سوار ابلق ایام ہو گیاشاہ اکبر داناپوری
- شکل جب بس گئی آنکھوں میں تو چھپنا کیسادل میں گھر کر کے مری جان یہ پردا کیساشاہ اکبر داناپوری
- عاشق دعا کرے تو یہی اک دعا کرےدو دل ملیں تو پھر نہ جدا ہوں خدا کرےشاہ اکبر داناپوری
- عاشقو پاؤں نہ اکھڑے وہیں ٹھہرے رہناپردہ اٹھتا ہے رخ یار سے سنبھلے رہناشاہ اکبر داناپوری
- کوئی ارمان مرے دل کا نکلنے نہ دیاشوخیوں نے تری فقرہ بھی تو چلنے نہ دیاشاہ اکبر داناپوری
- مجھ سے دل آپ کا مکدر ہےایسا جینا مجھے بھی دوبھر ہےشاہ اکبر داناپوری
- واہ کس رنگ پہ ہے رنگ بہار عارضباغ فردوس کا ہر پھول نثار عارضشاہ اکبر داناپوری
- ہزاروں راز نہاں ہیں دہن کے پردے میںکروڑوں نکتہ ہیں اک اک سخن کے پردے میںشاہ اکبر داناپوری
- ہوں وہ مومن جسے ایماں سے سروکار نہیںوہ برہمن ہوں جسے حاجت زنار نہیںشاہ اکبر داناپوری
- پھونکی تپ فراق نے یہ تن بدن میں آگاب جسم کی جگہ ہے مرے پیرہن میں آگشاہ اکبر داناپوری
- تو نے خنجر مری گردن پہ نہ پھیرا اچھااچھا اچھا ارے او جان کے لیوا اچھاشاہ اکبر داناپوری
- جاگا وہاں نصیب عدو کا تمام راتمیں بے قراریوں سے نہ سویا تمام راتشاہ اکبر داناپوری
- جو بنے آئنہ وہ تیرا تماشہ دیکھےاپنی صورت میں ترے حسن کا جلوہ دیکھےشاہ اکبر داناپوری
- کس قدر دھیان ہے اے کاکل پیچاں تیرااپنے سایہ سے الجھتا ہے پریشان تیراشاہ اکبر داناپوری
- محو ایسا تری صورت میں ہے شیدا تیرادیکھتا ہے وہ ہر اک شکل میں جلوہ تیراشاہ اکبر داناپوری
- موسیٰ ہیں ہمیں جلوۂ دیدار ہمیں ہیںہیں طور ہمیں نور ہمیں نار ہمیں ہیںشاہ اکبر داناپوری
- نکلی جو روح جسم سے پھر ہے بدن میں کیاجب شمع بجھ گئی تو رہا انجمن میں کیاشاہ اکبر داناپوری