Poetry
- آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کادر مے خانہ تھا نقشہ تری انگڑائی کاثاقب لکھنوی
- آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھیاک درد کی تصویر ادھر بھی ہے ادھر بھیثاقب لکھنوی
- اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیاجب زمیں کی داغ ابھر آئے گلستاں ہو گیاثاقب لکھنوی
- ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہےجو ہجر میں تڑپائے وہی رات بڑی ہےثاقب لکھنوی
- ایک مقتول جفا دو ظلم کے قابل نہ تھاورنہ دل کا مارنا آسان تھا مشکل نہ تھاثاقب لکھنوی
- بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہےنہ ہو شراب تو پہروں گھٹا برستی ہےثاقب لکھنوی
- بس اے فلک نشاط دل کا انتقام ہو چکاہنسا تھا جس قدر کبھی زیادہ اس سے رو چکاثاقب لکھنوی
- بلا ہی عشق لیکن ہر بشر قابل نہیں ہوتابہت پہلو ہیں ایسے بھی کہ جن میں دل نہیں ہوتاثاقب لکھنوی
- پردہ رہا کہ جلوۂ وحدت نما ہواغش نے خبر نہ دی مجھے کب سامنا ہواثاقب لکھنوی
- تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانامحبت کیا ہے مرنے کے لئے تیار ہو جاناثاقب لکھنوی
- تمام عمر کی غفلت کے بعد خواب آیااٹھا جو پردۂ ہستی مجھے حجاب آیاثاقب لکھنوی
- تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کاجس کو شب کہتے ہیں مقتل ہے وہ پروانے کاثاقب لکھنوی
- تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہےکیجیے کیا کہ لگی دل کی بری ہوتی ہےثاقب لکھنوی
- جل گیا خاک ہوا کب کا وہ پروانۂ دلختم ہوتا نہیں اب تک مگر افسانۂ دلثاقب لکھنوی
- چمن کا ذکر کیا اب تو خدا کو یاد کرتے ہیںخوشی صیاد کو ہوتی ہے جب فریاد کرتے ہیںثاقب لکھنوی
- خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیںغیر کے ہو گئے ایسے کہ وطن یاد نہیںثاقب لکھنوی
- خون کس کس کا ہوا صدقے تری تلوار پرفصل گل دھبے ہیں لاکھوں دامن گلزار پرثاقب لکھنوی
- دل اپنے رنج و غم سے جام جہاں نما تھااب آپ ہی بتائیں اچھا تھا یا برا تھاثاقب لکھنوی
- دل کیوں تپاں ہے کوچۂ دل دار دیکھ کرآگے بڑھوں گا چرخ کی رفتار دیکھ کرثاقب لکھنوی
- دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہےاک فقط موت کے آ جانے سے کیا ہوتا ہےثاقب لکھنوی
- رخ و زلف کا ہوں فسانہ خواں یہی مشغلہ یہی کام ہےمجھے دن کا چین عذاب جاں مجھے شب کی نیند حرام ہےثاقب لکھنوی
- رو رہا تھا میں بھری برسات تھیحال کیا کھلتا اندھیری رات تھیثاقب لکھنوی
- سحر کو بھی مری محفل میں برہمی نہ ہوئیتمام رات ہوئی درد میں کمی نہ ہوئیثاقب لکھنوی
- سوائے رحمت رب کچھ نہیں ہےبہت کچھ تھا مگر اب کچھ نہیں ہےثاقب لکھنوی
- عبرت دہر ہو گیا جب سے چھپا مزار میںخیر جگہ تو مل گئی دیدۂ اعتبار میںثاقب لکھنوی
- غش بھی آیا مری پرسش کو قضا بھی آئیبے مروت تجھے کچھ شرم و حیا بھی آئیثاقب لکھنوی
- کٹ گیا رشتۂ الفت جو ترا نام آیادل وفادار تھا لیکن نہ مرے کام آیاثاقب لکھنوی
- کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیںنام لوں کس کس کا مجھ کو ایک بیماری نہیںثاقب لکھنوی
- کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتےجوانی جو رہتی تو پھر ہم نہ رہتےثاقب لکھنوی
- ملتا جو کوئی ٹکڑا اس چرخ زبرجد میںپیوند لگا دیتا میں نفس مجرد میںثاقب لکھنوی
- میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئےوگر نہ موت تو دنیا میں ہے سبھی کے لئےثاقب لکھنوی
- میں نہیں کہتا کہ دنیا کو بدل کر راہ چلخار ہیں پیراہن گل میں سنبھل کر راہ چلثاقب لکھنوی
- میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیاغم نے شاگرد کیا پھر مجھے استاد کیاثاقب لکھنوی
- نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہےزمانہ نام گزرنے کا ہے گزرتا ہےثاقب لکھنوی
- وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئیصبح کاذب اور کیا کرتی چمک کر رہ گئیثاقب لکھنوی
- وہ نہیں ہوں میں کہ جس پر کوئی اشک بار ہوتاکبھی شمع بھی نہ روتی جو مرا مزار ہوتاثاقب لکھنوی
- ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئےکوئی تو ہو جو کبھی دل کے روبرو آئےثاقب لکھنوی
- ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگےسننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگےثاقب لکھنوی
- ہزار پھول لیے موسم بہار آئےجو دل ہو سوکھ کے کانٹا تو کیا قرار آئےثاقب لکھنوی
- یوں اکیلا دشت غربت میں دل ناکام تھاپیچھے پیچھے موت تھی آگے خدا کا نام تھاثاقب لکھنوی
- یہ آہ و فغاں کیوں ہے دل زار کے آگےکہتے ہیں کہ روتے نہیں بیمار کے آگےثاقب لکھنوی
- اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتےجو انتہا کو پہنچتے تو ابتدا کرتےثاقب لکھنوی
- ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیادل کی گتھی شانہ ہائے زلف سلجھائیں گے کیاثاقب لکھنوی
- حسن کی وہ صورتیں خواب پریشاں ہو گئیںپردۂ دل میں لگا کر آگ پنہاں ہو گئیںثاقب لکھنوی
- مرا دل داد خواہ ظلم اصلاً ہو نہیں سکتامروت منہ کو سی دیتی ہے شکوا ہو نہیں سکتاثاقب لکھنوی
- یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میریحباب ہو گئی آخر کو آبرو میریثاقب لکھنوی