Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کادر مے خانہ تھا نقشہ تری انگڑائی کاثاقب لکھنوی
  2. آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھیاک درد کی تصویر ادھر بھی ہے ادھر بھیثاقب لکھنوی
  3. اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیاجب زمیں کی داغ ابھر آئے گلستاں ہو گیاثاقب لکھنوی
  4. ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہےجو ہجر میں تڑپائے وہی رات بڑی ہےثاقب لکھنوی
  5. ایک مقتول جفا دو ظلم کے قابل نہ تھاورنہ دل کا مارنا آسان تھا مشکل نہ تھاثاقب لکھنوی
  6. بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہےنہ ہو شراب تو پہروں گھٹا برستی ہےثاقب لکھنوی
  7. بس اے فلک نشاط دل کا انتقام ہو چکاہنسا تھا جس قدر کبھی زیادہ اس سے رو چکاثاقب لکھنوی
  8. بلا ہی عشق لیکن ہر بشر قابل نہیں ہوتابہت پہلو ہیں ایسے بھی کہ جن میں دل نہیں ہوتاثاقب لکھنوی
  9. پردہ رہا کہ جلوۂ وحدت نما ہواغش نے خبر نہ دی مجھے کب سامنا ہواثاقب لکھنوی
  10. تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانامحبت کیا ہے مرنے کے لئے تیار ہو جاناثاقب لکھنوی
  11. تمام عمر کی غفلت کے بعد خواب آیااٹھا جو پردۂ ہستی مجھے حجاب آیاثاقب لکھنوی
  12. تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کاجس کو شب کہتے ہیں مقتل ہے وہ پروانے کاثاقب لکھنوی
  13. تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہےکیجیے کیا کہ لگی دل کی بری ہوتی ہےثاقب لکھنوی
  14. جل گیا خاک ہوا کب کا وہ پروانۂ دلختم ہوتا نہیں اب تک مگر افسانۂ دلثاقب لکھنوی
  15. چمن کا ذکر کیا اب تو خدا کو یاد کرتے ہیںخوشی صیاد کو ہوتی ہے جب فریاد کرتے ہیںثاقب لکھنوی
  16. خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیںغیر کے ہو گئے ایسے کہ وطن یاد نہیںثاقب لکھنوی
  17. خون کس کس کا ہوا صدقے تری تلوار پرفصل گل دھبے ہیں لاکھوں دامن گلزار پرثاقب لکھنوی
  18. دل اپنے رنج و غم سے جام جہاں نما تھااب آپ ہی بتائیں اچھا تھا یا برا تھاثاقب لکھنوی
  19. دل کیوں تپاں ہے کوچۂ دل دار دیکھ کرآگے بڑھوں گا چرخ کی رفتار دیکھ کرثاقب لکھنوی
  20. دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہےاک فقط موت کے آ جانے سے کیا ہوتا ہےثاقب لکھنوی
  21. رخ و زلف کا ہوں فسانہ خواں یہی مشغلہ یہی کام ہےمجھے دن کا چین عذاب جاں مجھے شب کی نیند حرام ہےثاقب لکھنوی
  22. رو رہا تھا میں بھری برسات تھیحال کیا کھلتا اندھیری رات تھیثاقب لکھنوی
  23. سحر کو بھی مری محفل میں برہمی نہ ہوئیتمام رات ہوئی درد میں کمی نہ ہوئیثاقب لکھنوی
  24. سوائے رحمت رب کچھ نہیں ہےبہت کچھ تھا مگر اب کچھ نہیں ہےثاقب لکھنوی
  25. عبرت دہر ہو گیا جب سے چھپا مزار میںخیر جگہ تو مل گئی دیدۂ اعتبار میںثاقب لکھنوی
  26. غش بھی آیا مری پرسش کو قضا بھی آئیبے مروت تجھے کچھ شرم و حیا بھی آئیثاقب لکھنوی
  27. کٹ گیا رشتۂ الفت جو ترا نام آیادل وفادار تھا لیکن نہ مرے کام آیاثاقب لکھنوی
  28. کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیںنام لوں کس کس کا مجھ کو ایک بیماری نہیںثاقب لکھنوی
  29. کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتےجوانی جو رہتی تو پھر ہم نہ رہتےثاقب لکھنوی
  30. ملتا جو کوئی ٹکڑا اس چرخ زبرجد میںپیوند لگا دیتا میں نفس مجرد میںثاقب لکھنوی
  31. میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئےوگر نہ موت تو دنیا میں ہے سبھی کے لئےثاقب لکھنوی
  32. میں نہیں کہتا کہ دنیا کو بدل کر راہ چلخار ہیں پیراہن گل میں سنبھل کر راہ چلثاقب لکھنوی
  33. میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیاغم نے شاگرد کیا پھر مجھے استاد کیاثاقب لکھنوی
  34. نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہےزمانہ نام گزرنے کا ہے گزرتا ہےثاقب لکھنوی
  35. وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئیصبح کاذب اور کیا کرتی چمک کر رہ گئیثاقب لکھنوی
  36. وہ نہیں ہوں میں کہ جس پر کوئی اشک بار ہوتاکبھی شمع بھی نہ روتی جو مرا مزار ہوتاثاقب لکھنوی
  37. ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئےکوئی تو ہو جو کبھی دل کے روبرو آئےثاقب لکھنوی
  38. ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگےسننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگےثاقب لکھنوی
  39. ہزار پھول لیے موسم بہار آئےجو دل ہو سوکھ کے کانٹا تو کیا قرار آئےثاقب لکھنوی
  40. یوں اکیلا دشت غربت میں دل ناکام تھاپیچھے پیچھے موت تھی آگے خدا کا نام تھاثاقب لکھنوی
  41. یہ آہ و فغاں کیوں ہے دل زار کے آگےکہتے ہیں کہ روتے نہیں بیمار کے آگےثاقب لکھنوی
  42. اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتےجو انتہا کو پہنچتے تو ابتدا کرتےثاقب لکھنوی
  43. ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیادل کی گتھی شانہ ہائے زلف سلجھائیں گے کیاثاقب لکھنوی
  44. حسن کی وہ صورتیں خواب پریشاں ہو گئیںپردۂ دل میں لگا کر آگ پنہاں ہو گئیںثاقب لکھنوی
  45. مرا دل داد خواہ ظلم اصلاً ہو نہیں سکتامروت منہ کو سی دیتی ہے شکوا ہو نہیں سکتاثاقب لکھنوی
  46. یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میریحباب ہو گئی آخر کو آبرو میریثاقب لکھنوی