Poetry
- جب عزم کے شعلوں کو ہمت نے ہوا دی ہےطوفاں نے ہی ساحل کی تصویر دکھا دی ہےSabiha Sumbul
- حسین تاج کی صورت یہ بے صدا پتھردکھا رہے ہیں محبت کا معجزہ پتھرSabiha Sumbul
- دل میں ان کی یادوں کے جب دئے جلاتے ہیںدامن تخیل پر پھول مسکراتے ہیںSabiha Sumbul
- دل میں زخموں کی نئی فصل اگانے نکلےدرد کے پھول بیاباں میں کھلانے نکلےSabiha Sumbul
- کس کی یہ سیاست ہے کس کی ہیں یہ تدبیریںرہزنوں نے پائی ہیں رہبروں کی تقدیریںSabiha Sumbul
- کون ایسا ہے یہاں دل سے مجھے یاد کرےوقت تھوڑا سا مرے واسطے برباد کرےSabiha Sumbul
- گزرے ہیں ہم پہ ایسے بھی لمحے کبھی کبھیدل رو پڑا ہے سن کے لطیفے کبھی کبھیSabiha Sumbul
- مری زندگی کی کتاب کا ہے ہر اک ورق یوں سجا ہواکہیں آنسوؤں سے لکھا ہوا کہیں شوخیوں سے بھرا ہواSabiha Sumbul
- میں بکھر نہ جاؤں ورق ورق مجھے طاق دل میں سجائیےمرا حرف حرف ہے بے بہا مجھے اس طرح نہ مٹائیےSabiha Sumbul
- یہ مانا تم ہو زمانے کے با کمالوں میںتو ہم بھی خود کو سمجھتے ہیں بے مثالوں میںSabiha Sumbul