Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آئینہ بن جائیے جلوہ اثر ہو جائیےسامنے وہ ہوں تو سر تا پا نظر ہو جائیےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  2. اجالا کر کے ظلمت میں گھرا ہوںچراغ رہ گزر تھا بجھ گیا ہوںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  3. اجل ہوتی رہے گی عشق کر کے ملتوی کب تکمقدر میں ہے یا رب آرزوئے خود کشی کب تکSaba Akbarabadi (1908–1991)
  4. اس رنگ میں اپنے دل ناداں سے گلہ ہےجیسے ہمیں کل عالم امکاں سے گلہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  5. اس کا وعدہ تا قیامت کم سے کماور یہاں مرنے کی فرصت کم سے کمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  6. اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیںعشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  7. اشک باری نہیں فرقت میں شررباری ہےآنکھ میں خون کا قطرہ ہے کہ چنگاری ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  8. تجھ سے دامن کشاں نہیں ہوں میںاے زمیں آسماں نہیں ہوں میںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  9. تم نے رسم جفا اٹھا دی ہےہمیں کس جرم کی سزا دی ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  10. جنوں میں گم ہوئے ہشیار ہو کرہمیں نیند آ گئی بیدار ہو کرSaba Akbarabadi (1908–1991)
  11. جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےیہ اک ایسی کہانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  12. جو دیکھیے تو کرم عشق پر ذرا بھی نہیںجو سوچیے کہ خفا ہیں تو وہ خفا بھی نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  13. جو ہمارے سفر کا قصہ ہےوہ تری رہ گزر کا قصہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  14. چلا چل مہلت آرام کیا ہےمسافر اور تیرا کام کیا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  15. حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیافصل گل جا مرے دل سے ترا ارمان گیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  16. سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیابات تو صرف اک رات کی تھی مگر انتظار آپ کا عمر بھر کر لیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  17. سونا تھا جتنا عہد جوانی میں سو لیےاب دھوپ سر پہ آ گئی ہے آنکھ کھولیےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  18. غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیںتیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  19. کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھوجس کی صورت نظر آئے وہی صورت سمجھوSaba Akbarabadi (1908–1991)
  20. منزل پہ پہنچنے کا مجھے شوق ہوا تیزرستہ ملا دشوار تو میں اور چلا تیزSaba Akbarabadi (1908–1991)
  21. ہجوم غم ہے قلب غمزدہ ہےمری محفل مرا خلوت‌ کدہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  22. ہے جو درویش وہ سلطاں ہے یہ معلوم ہوابوریا تخت سلیماں ہے یہ معلوم ہواSaba Akbarabadi (1908–1991)
  23. یگانہ بن کے ہو جائے وہ بیگانہ تو کیا ہوگاجو پہچانا تو کیا ہوگا نہ پہچانا تو کیا ہوگاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  24. آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہتکہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  25. آپ کے لب پہ اور وفا کی قسمکیا قسم کھائی ہے خدا کی قسمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  26. آئینہ کیسا تھا وہ شام شکیبائی کاسامنا کر نہ سکا اپنی ہی بینائی کاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  27. ابھی تو ایک وطن چھوڑ کر ہی نکلے ہیںہنوز دیکھنی باقی ہیں ہجرتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  28. اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریکرات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  29. اچھا ہوا کہ سب در و دیوار گر پڑےاب روشنی تو ہے مرے گھر میں ہوا تو ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  30. ازل سے آج تک سجدے کئے اور یہ نہیں سوچاکسی کا آستاں کیوں ہے کسی کا سنگ در کیا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  31. اس شان کا آشفتہ و حیراں نہ ملے گاآئینہ سے فرصت ہو تو تصویر صباؔ دیکھSaba Akbarabadi (1908–1991)
  32. اک روز چھین لے گی ہمیں سے زمیں ہمیںچھینیں گے کیا زمیں کے خزانے زمیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  33. ایسا بھی کوئی غم ہے جو تم سے نہیں پایاایسا بھی کوئی درد ہے جو دل میں نہیں ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  34. بال و پر کی جنبشوں کو کام میں لاتے رہواے قفس والو قفس سے چھوٹنا مشکل سہیSaba Akbarabadi (1908–1991)
  35. بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہےآدمی آدمی اکیلا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  36. پستی نے بلندی کو بنایا ہے حقیقتیہ رفعت افلاک بھی محتاج زمیں ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  37. ٹکڑے ہوئے تھے دامن ہستی کے جس قدردلق گدائے عشق کے پیوند ہو گئےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  38. جب عشق تھا تو دل کا اجالا تھا دہر میںکوئی چراغ نور بداماں نہیں ہے ابSaba Akbarabadi (1908–1991)
  39. خواہشوں نے دل کو تصویر تمنا کر دیااک نظر نے آئنے میں عکس گہرا کر دیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  40. دوستوں سے یہ کہوں کیا کہ مری قدر کروابھی ارزاں ہوں کبھی پاؤ گے نایاب مجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  41. رواں ہے قافلۂ روح التفات ابھیہماری راہ سے ہٹ جائے کائنات ابھیSaba Akbarabadi (1908–1991)
  42. روشنی خود بھی چراغوں سے الگ رہتی ہےدل میں جو رہتے ہیں وہ دل نہیں ہونے پاتےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  43. سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمیبندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  44. سو بار جس کو دیکھ کے حیران ہو چکےجی چاہتا ہے پھر اسے اک بار دیکھناSaba Akbarabadi (1908–1991)
  45. عشق آتا نہ اگر راہ نمائی کے لئےآپ بھی واقف منزل نہیں ہونے پاتےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  46. غلط فہمیوں میں جوانی گزاریکبھی وہ نہ سمجھے کبھی ہم نہ سمجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  47. غم دوراں کو بڑی چیز سمجھ رکھا تھاکام جب تک نہ پڑا تھا غم جاناں سے ہمیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  48. کام آئے گی مزاج عشق کی آشفتگیاور کچھ ہو یا نہ ہو ہنگامۂ محفل سہیSaba Akbarabadi (1908–1991)
  49. کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہمالجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  50. کب تک یقین عشق ہمیں خود نہ آئے گاکب تک مکاں کا حال کہیں گے مکیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)