Poetry
- اڑا سکتا نہیں کوئی مرے انداز شیون کوبمشکل کچھ سکھایا ہے نوا سنجان گلشن کوSaail Dehlvi (1867–1945)
- امانت محتسب کے گھر شراب ارغواں رکھ دیتو یہ سمجھو کہ بنیاد خربات مغاں رکھ دیSaail Dehlvi (1867–1945)
- بسا اوقات آ جاتے ہیں دامن سے گریباں میںبہت دیکھے ہیں ایسے جوش اشک چشم گریاں میںSaail Dehlvi (1867–1945)
- جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کےکہ تنکے جمع کریں پھر نہ آشیانے کےSaail Dehlvi (1867–1945)
- حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دیناکوئی روئے تمہارے سامنے تم مسکرا دیناSaail Dehlvi (1867–1945)
- خزاں کا جو گلشن سے پڑ جائے پالاتو صحن چمن میں نہ گل ہو نہ لالہSaail Dehlvi (1867–1945)
- زعم نہ کیجو شمع رو بزم کے سوز و ساز پررکھیو نظر بجائے ناز خاطر پیر ناز پرSaail Dehlvi (1867–1945)
- سنا بھی کبھی ماجرا درد و غم کا کسی دل جلے کی زبانی کہو تونکل آئیں آنسو کلیجہ پکڑ لو کروں عرض اپنی کہانی کہو توSaail Dehlvi (1867–1945)
- کب تک رہے سینہ میں تمنائے مدینہکب تک دل بیتاب کہے ہائے مدینہSaail Dehlvi (1867–1945)
- محبت میں جینا نئی بات ہےنہ مرنا بھی مر کر کرامات ہےSaail Dehlvi (1867–1945)
- ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھیوفا دشمن جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھیSaail Dehlvi (1867–1945)
- وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میںحریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میںSaail Dehlvi (1867–1945)
- ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والےذرا تم بھی تو دیکھو ہم کو تم بھی ہو نظر والےSaail Dehlvi (1867–1945)
- ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اورگھونگھٹ کا اضافہ ہوا بالائے نقاب اورSaail Dehlvi (1867–1945)
- آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کونالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیںSaail Dehlvi (1867–1945)
- تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامینظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھیSaail Dehlvi (1867–1945)
- کھل گئی شمع تری ساری کرامات جمالدیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیںSaail Dehlvi (1867–1945)
- محتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہاکن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھاSaail Dehlvi (1867–1945)
- معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لیبھاتا ہی نہیں اب انہیں افسانہ کسی کاSaail Dehlvi (1867–1945)
- ہمیشہ خون دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سےنہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پرSaail Dehlvi (1867–1945)