Poetry
- آخر ایسی بھی کیا خطا ہے مریکتنی تکلیف دہ سزا ہے مریRaakesh ulfat (b. 1961)
- اثر ہوتا نہیں ہے پتھروں پرہمیں بھی ناز ہے اپنے سروں پرRaakesh ulfat (b. 1961)
- الجھا ہوا بہت ہے فسانہ حیات کاتم کیا سمجھ سکو گے بیاں میری ذات کاRaakesh ulfat (b. 1961)
- بڑی حسین تھی وہ رات کیسے نیند آتیتو مجھ سے دور تھی دو ہاتھ کیسے نیند آتیRaakesh ulfat (b. 1961)
- تجھے ہے پیار تو یوں کرکے چل دکھا مجھ کوسبھی کے سامنے اپنے گلے لگا مجھ کوRaakesh ulfat (b. 1961)
- تمہارے لب پہ میرا نام خواب لگتا ہےمگر یہ لمحہ بڑا کامیاب لگتا ہےRaakesh ulfat (b. 1961)
- تیرا دل بھی مرے دل جیسا اگر ہو جائےکتنا آساں مرے جیون کا سفر ہو جائےRaakesh ulfat (b. 1961)
- جب جب انا کے ہاتھ میں پتوار آ گئیکشتی ڈبونے والی کوئی دھار آ گئیRaakesh ulfat (b. 1961)
- جو سایہ سا منور تھا مرے ساجن کا تھوڑا تھامقدر یوں ابھی روشن مرے آنگن کا تھوڑا تھاRaakesh ulfat (b. 1961)
- چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میںیہ نہ سمجھو کہ بے خبر ہوں میںRaakesh ulfat (b. 1961)
- چراغ لے کے ہتھیلی پہ چل سکو گے کیاگھنا اندھیرا ہے باہر نکل سکو گے کیاRaakesh ulfat (b. 1961)
- کہہ دو دل میں جو بات باقی ہےیہ نہ سوچو کہ رات باقی ہےRaakesh ulfat (b. 1961)
- کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیںمیرے دل میں تو سبھی کے غم ہیںRaakesh ulfat (b. 1961)
- مرا فخر حیاتی آج بھی کردار ہے میرااسی نگ سے مزین طرۂ دستار ہے میراRaakesh ulfat (b. 1961)
- میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتےمگر یہ سچ ہے کہ سب ایک سے نہیں ہوتےRaakesh ulfat (b. 1961)
- وقت جب طے ہے تو پھر غم کیساآپ زندہ ہیں تو ماتم کیساRaakesh ulfat (b. 1961)
- یہ بھول جاؤ کہ ڈر جائے گی مری خوشبوہر ایک سمت کو مہکائے گی مری خوشبوRaakesh ulfat (b. 1961)
- پانی ہلا نہیں ہے ابھی بھی ہے جوں کا توںپتھر تو ایک پھینک کے دیکھا ضرور ہےRaakesh ulfat (b. 1961)
- تمہارے حصہ کے جتنے بھی غم ہیں میں لے لوںمرے نصیب کی ہر اک خوشی ملے تم کوRaakesh ulfat (b. 1961)