Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آخر ایسی بھی کیا خطا ہے مریکتنی تکلیف دہ سزا ہے مریRaakesh ulfat (b. 1961)
  2. اثر ہوتا نہیں ہے پتھروں پرہمیں بھی ناز ہے اپنے سروں پرRaakesh ulfat (b. 1961)
  3. الجھا ہوا بہت ہے فسانہ حیات کاتم کیا سمجھ سکو گے بیاں میری ذات کاRaakesh ulfat (b. 1961)
  4. بڑی حسین تھی وہ رات کیسے نیند آتیتو مجھ سے دور تھی دو ہاتھ کیسے نیند آتیRaakesh ulfat (b. 1961)
  5. تجھے ہے پیار تو یوں کرکے چل دکھا مجھ کوسبھی کے سامنے اپنے گلے لگا مجھ کوRaakesh ulfat (b. 1961)
  6. تمہارے لب پہ میرا نام خواب لگتا ہےمگر یہ لمحہ بڑا کامیاب لگتا ہےRaakesh ulfat (b. 1961)
  7. تیرا دل بھی مرے دل جیسا اگر ہو جائےکتنا آساں مرے جیون کا سفر ہو جائےRaakesh ulfat (b. 1961)
  8. جب جب انا کے ہاتھ میں پتوار آ گئیکشتی ڈبونے والی کوئی دھار آ گئیRaakesh ulfat (b. 1961)
  9. جو سایہ سا منور تھا مرے ساجن کا تھوڑا تھامقدر یوں ابھی روشن مرے آنگن کا تھوڑا تھاRaakesh ulfat (b. 1961)
  10. چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میںیہ نہ سمجھو کہ بے خبر ہوں میںRaakesh ulfat (b. 1961)
  11. چراغ لے کے ہتھیلی پہ چل سکو گے کیاگھنا اندھیرا ہے باہر نکل سکو گے کیاRaakesh ulfat (b. 1961)
  12. کہہ دو دل میں جو بات باقی ہےیہ نہ سوچو کہ رات باقی ہےRaakesh ulfat (b. 1961)
  13. کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیںمیرے دل میں تو سبھی کے غم ہیںRaakesh ulfat (b. 1961)
  14. مرا فخر حیاتی آج بھی کردار ہے میرااسی نگ سے مزین طرۂ دستار ہے میراRaakesh ulfat (b. 1961)
  15. میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتےمگر یہ سچ ہے کہ سب ایک سے نہیں ہوتےRaakesh ulfat (b. 1961)
  16. وقت جب طے ہے تو پھر غم کیساآپ زندہ ہیں تو ماتم کیساRaakesh ulfat (b. 1961)
  17. یہ بھول جاؤ کہ ڈر جائے گی مری خوشبوہر ایک سمت کو مہکائے گی مری خوشبوRaakesh ulfat (b. 1961)
  18. پانی ہلا نہیں ہے ابھی بھی ہے جوں کا توںپتھر تو ایک پھینک کے دیکھا ضرور ہےRaakesh ulfat (b. 1961)
  19. تمہارے حصہ کے جتنے بھی غم ہیں میں لے لوںمرے نصیب کی ہر اک خوشی ملے تم کوRaakesh ulfat (b. 1961)