Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آں سے ظالم کا امتحاں اور میںیہ ستم تیرے آسماں اور میںقربان علی سالک بیگ
  2. اب تو لب سے نہ جائے گا آگےنالے کا زور شور تھا آگےقربان علی سالک بیگ
  3. اچھی نبھی بتان ستم آشنا کے ساتھاب بعد مرگ دیکھیے کیا ہو خدا کے ساتھقربان علی سالک بیگ
  4. انتہا صبر آزمائی کیہے درازی شب جدائی کیقربان علی سالک بیگ
  5. انسان ہوس پیشہ سے کیا ہو نہیں سکتامجبور ہے اس سے کہ خدا ہو نہیں سکتاقربان علی سالک بیگ
  6. بھول کر بھی ادھر نہیں آتاوہ کبھی راہ پر نہیں آتاقربان علی سالک بیگ
  7. جو بھر لیں ایک چٹکی صاحب تاثیر مٹی کیابھی شرمندۂ تاثیر ہو اکسیر مٹی کیقربان علی سالک بیگ
  8. جی ہیچ جان ہیچ نہ دل نے جگر عزیزسب سے سوا ہے وصل ترا فتنہ گر عزیزقربان علی سالک بیگ
  9. چاک جگر و دل کا جب شکوہ بجا ہوتایوسف کا زلیخا نے دامن تو سیا ہوتاقربان علی سالک بیگ
  10. خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کانہ کچھ ٹھکانا مرے گماں کا نہ کچھ ٹھکانا مرے یقیں کاقربان علی سالک بیگ
  11. دل پہ آفت آئی اب اک آن میںزلف کچھ کہتی ہے اس کے کان میںقربان علی سالک بیگ
  12. دل جہاں سے اٹھائے بیٹھے ہیںسب کو دیکھے دکھائے بیٹھے ہیںقربان علی سالک بیگ
  13. دل محبت مکان ہے گویاآرزو کا جہان ہے گویاقربان علی سالک بیگ
  14. دل وہ شے ہے کہ جو دیکھے تو کھچے یار کے ساتھیہ دکاں وہ ہے کہ چلتی ہے خریدار کے ساتھقربان علی سالک بیگ
  15. دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھےدل کو جو کوئی تیرا گھر سمجھےقربان علی سالک بیگ
  16. رکھو وہ شیوہ نہ مد نظر نظر میں رہےکہ جس سے راز محبت بشر بشر میں رہےقربان علی سالک بیگ
  17. کب ہے منظور کہ یوں جنس دل زار بکےپر یہ وہ شے ہے نہ بیچوں بھی تو سو بار بکےقربان علی سالک بیگ
  18. کچھ مجھے کہہ کے نہ کہوائیے آپبس زباں میری نہ کھلوایئے آپقربان علی سالک بیگ
  19. لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کاکام دے اے خامشی فریاد کاقربان علی سالک بیگ
  20. مجھ پر ایسی جفا کی کثرت کیکہ اسے غیر نے ملامت کیقربان علی سالک بیگ
  21. مری خاطر میں ساقی کب ترا پیمانہ آتا ہےکہ یاں ہر دم خیال نرگس مستانہ آتا ہےقربان علی سالک بیگ
  22. مضطرب ہوں اب یہ جی کی بات ہےعفو کیجے بے خودی کی بات ہےقربان علی سالک بیگ
  23. ملی نہ فرصت جہاں ہو غش سے اٹھی جو کچھ بھی نقاب عارضمگر سمجھتے نہیں ابھی تک تم اپنا جلوہ حجاب عارضقربان علی سالک بیگ
  24. میں ہوا زینت مکان قفسدود افغاں ہے سائبان قفسقربان علی سالک بیگ
  25. نالاں نہیں کچھ ترے ستم پرایسی ہی بنی ہے اپنے دم پرقربان علی سالک بیگ
  26. واعظ ملے گی خلد میں کب اس قدر شرابپانی کے بدلے پیتے ہیں اے بے خبر شرابقربان علی سالک بیگ
  27. وہ زیب شبستاں ہوا چاہتا ہےیہ مجمع پریشاں ہوا چاہتا ہےقربان علی سالک بیگ
  28. ہاتھ میں لے کے نہ خنجر بیٹھیےقتل کرنا ہے تو بس کر بیٹھیےقربان علی سالک بیگ
  29. ہزار وعدے کیے ہیں تم نے کبھی کسی کو وفا نہ کرناچلو اسی پر جو غیر کہہ دیں کہیں ہمارا کہا نہ کرناقربان علی سالک بیگ
  30. یہ کیا لطف شور فغاں رہ گیازمیں رہ گئی آسماں رہ گیاقربان علی سالک بیگ
  31. اٹھے آج ان سے فیصلہ کر کےیا خفا ہو کے یا خفا کر کےقربان علی سالک بیگ
  32. جس قدر ضبط کیا اور بھی رونا آیایہ طبیعت نہیں آئی کوئی دریا آیاقربان علی سالک بیگ
  33. گرہ لب پہ جو مدعا ہو گیاوہ دل میں مرے آبلہ ہو گیاقربان علی سالک بیگ
  34. یوں عیاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہمکہ نہاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہمقربان علی سالک بیگ