Poetry
- اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کرکرتے ہو اتنی باتیں کیوں تم بنا بنا کرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اورکہتا ہوں کچھ اور منہ سے نکل جائے ہے کچھ اورQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپناجس کے گھر کو یہ سمجھتے تھے کہ ہے گھر اپناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- اتنا بتلا مجھے ہرجائی ہوں میں یار کہ تومیں ہر اک شخص سے رکھتا ہوں سروکار کہ توQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- اے دلا ہم ہوئے پابند غم یار کہ تواب اذیت میں بھلا ہم ہیں گرفتار کہ توQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- برہم کبھی قاصد سے وہ محبوب نہ ہوتاگر نام ہمارا سر مکتوب نہ ہوتاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- بغیر اس کے یہ حیراں ہیں بغل دیکھ اپنی خالی ہمکہ کروٹ لے نہیں سکتے ہیں جوں تصویر قالی ہمQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی باتآوارۂ وطن کو لگے خوش وطن کی باتQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- بن ترے کیا کہیں کیا روگ ہمیں یار لگاڈر لگے نام لیے جس کا وہ آزار لگاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- بن دیکھے اس کے جاوے رنج و عذاب کیوں کروہ خواب میں تو آوے پر آوے خواب کیوں کرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- بہ چمن اب وہ کیا چاہے ہے مے نوش گزارجلد اے پیک صبا گل کے یہ کر گوش گزارQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- بہ صد آرزو جو وہ آیا تو یہ حجاب عشق سے حال تھاکہ ہزاروں دل میں تھیں حسرتیں اور اٹھانا آنکھ محال تھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- بیٹھے تو پاس ہیں پر آنکھ اٹھا سکتے نہیںجی لگا ہے پہ ابھی ہاتھ لگا سکتے نہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- پروا نہیں اس کو اور موئے ہمکیوں ایسے پہ مبتلا ہوئے ہمQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- تصور باندھتے ہیں اس کا جب وحشت کے مارے ہمتو پھر کرتے ہیں آپ ہی آپ کیا کیا کچھ اشارے ہمQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- تن میں دم روک میں بہ دیر رکھاآؤ جی کس نے تم کو گھیر رکھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- تیغ بران نکالو صاحبدل کے ارمان نکالو صاحبQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- جذبۂ عشق عجب سیر دکھاتا ہے ہمیںاپنی جانب کوئی کھینچے لیے جاتا ہے ہمیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- جس کے طالب ہیں وہ مطلوب کہیں بیٹھ رہامنتظر ہم کو بٹھا خوب کہیں بیٹھ رہاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- جگر خوں ہو کے باہر دیدۂ گریان آوے گایہی رونا رہا تو آج کل طوفان آوے گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہماے خضر تصور ترے قربان گئے ہمQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- جوش گریہ یہ دم رخصت یار آئے نظرابر جوشاں کا بندھا جیسے کہ تار آئے نظرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگاہمارا شعر بھی مشہور ہوگاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- چھیڑنے ہم کو یار آج آیابارے کچھ چہل پر مزاج آیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- حسن اے جان نہیں رہنے کاپھر یہ احسان نہیں رہنے کاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- دام میں ہم کو لاتے ہو تم دل اٹکا ہے اور کہیںشعر پڑھانے ہم سے اور مضمون گٹھا ہے اور کہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- درپئے عمر رفتہ ہوں یا ربہر دم از خود گزشتہ ہوں یا ربQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- در تک اب چھوڑ دیا گھر سے نکل کر آنایا وہ راتوں کو سدا بھیس بدل کر آناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوںحسب حال اس کو کئی شعر سنا رہتا ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- دل کو اے عشق سوئے زلف سیہ فام نہ بھیجرہزنوں میں تو مسافر کو سر شام نہ بھیجQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گاشمع ساں محفل جاناں ہی میں جل جاؤں گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- دیکھیو اس کی ذرا آنکھ دکھانے کا مزاچتونوں میں ہے بھرا سارے زمانے کا مزاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھادل کو مجھ سے مجھے کچھ دل سے سروکار نہ تھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- رات کیا کیا مجھے ملال نہ تھاخواب کا تو کہیں خیال نہ تھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- سب چلے تیرے آستاں کو چھوڑبد زباں اب تو اس زباں کو چھوڑQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- سب کہتے ہیں دیکھ اس کو سر راہ زمیں پرکس راہ سے آیا یہ اتر ماہ زمیں پرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیاسوچ ہے ہر دم یہی ہم کو کہ ہم نے کیا کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- شب ہجراں میں مت پوچھو کہ کن باتوں میں رہتا ہوںتصور باندھ اس کا صبح تک کچھ کچھ میں کہتا ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- صوت بلبل دل نالاں نے سنائی مج کوسیر گل دیدۂ گریاں نے دکھائی مج کوQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- عمل کچھ ایسا کیا عدو نے کہ عشق باہم لگا چھڑایاالٰہی چھٹ جائیں اس کی نبضیں ملاپ جس نے مرا چھڑایاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس سے اگر اپناتو ہنس کے وہ بولے ہے میاں فکر کر اپناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کب کوئی تجھ سا آئینہ رو یاں ہے دوسراہے تو ترا ہی عکس نمایاں ہے دوسراQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کچھ منہ سے دینے کہہ وہ بہانے سے اٹھ گیاحرف سخاوت آہ زمانے سے اٹھ گیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کس جا نہ بے قراری سے میں خستہ تن گیاپر دیکھنے کا اس کے کہیں ڈھب نہ بن گیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کل جو رونے پر مرے ٹک دھیان اس کا پڑ گیاہنس کے یوں کہنے لگا کچھ آنکھ میں کیا پڑ گیا؟Qalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیاخواب میں آنے کی بھی تم نے قسم کھائی کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کیوں کر گلی میں اس کی میں اے ہم رہاں رہوںاس آرزوئے دل پہ ہے واں تو نہ ہاں نہ ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کاحسن مرقع ہے طلسمات کاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- گر کہوں غیر سے پھر ربط ہوا تجھ کو کیاکیا برا مان کے کہتا ہے بھلا تجھ کو کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- گرمی مرے کیوں نہ ہو سخن میںاک آگ سی پھنک رہی ہے تن میںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)