Poetry
- اس پہ دھبہ نہ لگا نام کو رسوائی کاآج تک پاک ہے دامن مری بینائی کاQadr Oraizi
- تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربطمیری سبک سری کو ہے بار گراں سے ربطQadr Oraizi
- جو چشم شوق کی حالت سے آشکار نہ تھاوہ انتظار بہ عنوان انتظار نہ تھاQadr Oraizi
- خاموش اس طرح سے نہ جل کر دھواں اٹھااے شمع کچھ تو بول کبھی تو زباں اٹھاQadr Oraizi
- دست جنوں نے مجھ کو پریشاں بنا دیاجو چیز ہاتھ آئی گریباں بنا دیاQadr Oraizi
- رنگ ظلم دست وحشت جب نمایاں ہو گیامنظر قوس قزح چاک گریباں ہو گیاQadr Oraizi
- ضبط کر آہ بار بار نہ کرغم الفت کو شرمسار نہ کرQadr Oraizi
- کوہ غم سے کیا غرض فکر بتاں سے کیا غرضاے سبک روئی تجھے بار گراں سے کیا غرضQadr Oraizi
- کیوں خوش ہے اس کا خط جو ترے نام آ گیاکیا آسمان سے کوئی پیغام آ گیاQadr Oraizi
- مشکل ہے پتہ چلنا قصوں سے محبت کااندازہ مصیبت میں ہوتا ہے مصیبت کاQadr Oraizi
- وہ بظاہر کبھی عیاں نہ ہواپھر بھی مشتاق سے نہاں نہ ہواQadr Oraizi
- ہے عام ازل ہی سے فیضان محبت کاامکان مسلم ہے امکان محبت کاQadr Oraizi