Poetry
- اگر کچھ سرگرانی دے رہی ہےخوشی بھی زندگانی دے رہی ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- جھگیوں کا حق دبانا آ گیاکوٹھیوں کو ظلم ڈھانا آ گیاOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- سبھی کے کام پر اس کی نظر ہےمگر انسان پھر بھی بے خبر ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- عاجزی تو ہے نہیں گفتار میںکون پوچھے گا ہمیں دربار میںOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- کاش ایسا دیار آ جائےگلشنوں کی قطار آ جائےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- کام کا بھی ٹھکانا نہیں ہےاور گھر میں بھی دانہ نہیں ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- کچھ میٹھا کچھ کھارا پن ہےکیا کیا سواد لیے جیون ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- کھلے سے چوک چوبارے نہیں ہیںنگر میں اب وہ نظارے نہیں ہیںOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- لطف کیا آئے گا شرافت میںآپ اب آ گئے سیاست میںOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- محفل میں سب کو اپنا پرستار کر دیاشیریں زباں سے اس نے چمتکار کر دیاOnkar Singh Vivek (b. 1965)
- منہ پر تو کتنا رس گھولا جاتا ہےپیچھے جانے کیا کیا بولا جاتا ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)