Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اگر کچھ سرگرانی دے رہی ہےخوشی بھی زندگانی دے رہی ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
  2. جھگیوں کا حق دبانا آ گیاکوٹھیوں کو ظلم ڈھانا آ گیاOnkar Singh Vivek (b. 1965)
  3. سبھی کے کام پر اس کی نظر ہےمگر انسان پھر بھی بے خبر ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
  4. عاجزی تو ہے نہیں گفتار میںکون پوچھے گا ہمیں دربار میںOnkar Singh Vivek (b. 1965)
  5. کاش ایسا دیار آ جائےگلشنوں کی قطار آ جائےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
  6. کام کا بھی ٹھکانا نہیں ہےاور گھر میں بھی دانہ نہیں ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
  7. کچھ میٹھا کچھ کھارا پن ہےکیا کیا سواد لیے جیون ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)
  8. کھلے سے چوک چوبارے نہیں ہیںنگر میں اب وہ نظارے نہیں ہیںOnkar Singh Vivek (b. 1965)
  9. لطف کیا آئے گا شرافت میںآپ اب آ گئے سیاست میںOnkar Singh Vivek (b. 1965)
  10. محفل میں سب کو اپنا پرستار کر دیاشیریں زباں سے اس نے چمتکار کر دیاOnkar Singh Vivek (b. 1965)
  11. منہ پر تو کتنا رس گھولا جاتا ہےپیچھے جانے کیا کیا بولا جاتا ہےOnkar Singh Vivek (b. 1965)