Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھریآج کیا ندی بہی الٹی ہوا الٹی پھریNazm Tabatabai (1854–1933)
  2. آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگاہائے اے پیر مغاں کیا ہوگاNazm Tabatabai (1854–1933)
  3. احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کررستہ بھی چل تو سبزۂ بیگانہ چھوڑ کرNazm Tabatabai (1854–1933)
  4. اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہےشرابی جمع ہیں مے خانہ میں ٹوپی اچھلتی ہےNazm Tabatabai (1854–1933)
  5. اس مہینہ بھر کہاں تھا ساقیا اچھی طرحآ ادھر آ عید تو مل لیں ذرا اچھی طرحNazm Tabatabai (1854–1933)
  6. اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیںمدت سے دوستوں کی محفل کو ڈھونڈتے ہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
  7. بدعت مسنون ہو گئی ہےامت مطعون ہو گئی ہےNazm Tabatabai (1854–1933)
  8. پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گالے خون میں نے بخشا تو یاد کیا کرے گاNazm Tabatabai (1854–1933)
  9. پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرفچلا ہے چھوڑ کے بسمل مجھے ہرن کی طرفNazm Tabatabai (1854–1933)
  10. تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہےوہ ہرزہ گرد ہوں کہ پری خانہ ساتھ ہےNazm Tabatabai (1854–1933)
  11. جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کرتو اٹھے ہیں دھواں ہو کر گرے ہیں بجلیاں ہو کرNazm Tabatabai (1854–1933)
  12. سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہیزاہد عیار کیوں کیسی کہیNazm Tabatabai (1854–1933)
  13. سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیںاپنا ہے اس پر آشیاں نخل جو بارور نہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
  14. عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہوخدا معلوم یہ سامان کیا ہو جائے سر کیا ہوNazm Tabatabai (1854–1933)
  15. کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھکس کو یہ ڈھونڈتے ہیں برہنہ سر دونوں ساتھNazm Tabatabai (1854–1933)
  16. کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیںمجھے اجل کے بھی آنے کا اعتبار نہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
  17. کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپساقیا اپنی بغل میں شیشۂ صہبا ہیں آپNazm Tabatabai (1854–1933)
  18. کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میںفردا کو میں نے دیکھا گرد و غبار دی میںNazm Tabatabai (1854–1933)
  19. کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھےاپنے دل کو فگار کر بیٹھےNazm Tabatabai (1854–1933)
  20. مجھ کو سمجھو یادگار رفتگان لکھنؤہوں قد آدم غبار کاروان لکھنؤNazm Tabatabai (1854–1933)
  21. ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کوملا ہمدم یہاں کوئی نہ کوئی ہم زباں مجھ کوNazm Tabatabai (1854–1933)
  22. ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کرچھپا ہوا تھا جو راز دل میں کھلا وہ چہرہ کا رنگ ہو کرNazm Tabatabai (1854–1933)
  23. یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھدینے کے اے کریم مگر ہیں ہزار ہاتھNazm Tabatabai (1854–1933)
  24. یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرفہاتھ جس طرح سے آتا ہے گریباں کی طرفNazm Tabatabai (1854–1933)
  25. یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہونہ ہو جب درد ہی یا رب تو دل کیا ہو جگر کیا ہوNazm Tabatabai (1854–1933)
  26. یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیاکہ صدا ہے لطمۂ موج کی سر پر غرور کدھر گیاNazm Tabatabai (1854–1933)
  27. گور غریباںNazm Tabatabai (1854–1933)
  28. شرکت محفلNazm Tabatabai (1854–1933)
  29. نزول وحیNazm Tabatabai (1854–1933)
  30. ساقی نامہ (نظم طباطبائی)Nazm Tabatabai (1854–1933)
  31. جوش گلNazm Tabatabai (1854–1933)