Poetry
- اور تیری تو کسی بات سے انکار نہیںوہ جو ہر بار ہوا ہے وہی اس بار نہیںNaeem Sameer
- ایسا تو یہاں کچھ بھی نہیں حد نظر تکہم کو تو پہنچنا تھا کسی خواب نگر تکNaeem Sameer
- بستر کرب پہ جب نیند جلائی میں نےتب کسی خواب کی بنیاد اٹھائی میں نےNaeem Sameer
- بہت شاداب ہو لیکن بیابانی نہیں جاتیکہ بام اوج چھونے سے بھی ارزانی نہیں جاتیNaeem Sameer
- تاویل عہد فن ہی تو وحشت کا حل نہیںپیش نظر جنون ہے یارو غزل نہیںNaeem Sameer
- جو کچھ دیکھا اور سمجھا ہے نذر لوح و قلم کرتا ہوںیعنی چشم حیرت پر میں سچے خواب رقم کرتا ہوںNaeem Sameer
- خامشی کے بطن سے یہ گفتنی پیدا ہوئیمیں بظاہر چپ ہوا اور شاعری پیدا ہوئیNaeem Sameer
- ذات میں موجود موجوں کی روانی سے اٹھازندگی کا لطف طرز زندگانی سے اٹھاNaeem Sameer
- قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھیخواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھیNaeem Sameer
- کچھ دل نشیں یادیں بھی ہیں کچھ درد کا رشتہ بھی ہےمیں کس طرح بھولوں اسے وہ عمر کا حصہ بھی ہےNaeem Sameer