اور تیری تو کسی بات سے انکار نہیں
Naeem Sameerاور تیری تو کسی بات سے انکار نہیں
وہ جو ہر بار ہوا ہے وہی اس بار نہیں
ہم کو کس سمت میں جانا ہے یہ سمجھائے کون
اور ہم لوگ سمجھنے کو بھی تیار نہیں
بال و پر سے نہیں اڑتا ہوں جنوں سے اپنے
پاؤں زنجیر ہوئے ہیں مری رفتار نہیں
آنکھ پر خوف کا پردہ بھی تو ہو سکتا ہے
یہ جو دیوار نظر آتی ہے دیوار نہیں
جو تجھے دیکھنا ہوتا ہے وہی دیکھتا ہے
تیری آنکھوں میں ترے خواب ہیں آزار نہیں
رات ہوتے ہی گھروں کو جو پلٹتے ہیں سمیرؔ
یہ اجالوں کے طرف دار ہیں حق دار نہیں