ذات میں موجود موجوں کی روانی سے اٹھا

Naeem Sameer

ذات میں موجود موجوں کی روانی سے اٹھا

زندگی کا لطف طرز زندگانی سے اٹھا

یا مرے لوگوں کو دے یا رب سماعت کا شعور

یا مری آواز گوش لا معانی سے اٹھا

آئینے کو عکس کی زنجیر سے آزاد کر

چہرگی کو خال و خد کی ترجمانی سے اٹھا

اک نئی ہی شکل پیدا کر شکست و ریخت سے

اک نیا مفہوم اپنی رائگانی سے اٹھا

ایک بازو سے اٹھا تو مشعل منزل سمیرؔ

اور سفر کا بوجھ اپنے دست ثانی سے اٹھا