بہت شاداب ہو لیکن بیابانی نہیں جاتی
Naeem Sameerبہت شاداب ہو لیکن بیابانی نہیں جاتی
کہ بام اوج چھونے سے بھی ارزانی نہیں جاتی
کئی چہروں نے آوازوں نے دل آباد رکھا ہے
مگر آنکھوں میں رقصاں ہے جو ویرانی نہیں جاتی
مجھے اپنی نمو کے واسطے تم سے بچھڑنا ہے
تمہارے ساتھ رہنے سے تن آسانی نہیں جاتی
میں اس دل کی سبھی سچائیاں تسلیم کرتا ہوں
مگر اک بات ایسی بھی ہے جو مانی نہیں جاتی
ہجوم شور و غل میں کون تھا کس نے پکارا تھا
یہاں تو اپنی بھی آواز پہچانی نہیں جاتی
سمیرؔ اس عشق میں انسان کیا اتنا بدلتا ہے
میں خود پر غور کرتا ہوں تو حیرانی نہیں جاتی