کچھ دل نشیں یادیں بھی ہیں کچھ درد کا رشتہ بھی ہے

Naeem Sameer

کچھ دل نشیں یادیں بھی ہیں کچھ درد کا رشتہ بھی ہے

میں کس طرح بھولوں اسے وہ عمر کا حصہ بھی ہے

غم میں خوشی کی لہر کیوں آسودگی میں زہر کیوں

اس سوچ میں دریا بھی ہے اس فکر میں صحرا بھی ہے

وہ وہم کی تحریر ہے وہ خواب کی تصویر ہے

میں نے اسے دیکھا نہیں میں نے اسے دیکھا بھی ہے

کب تک میں اپنے آپ سے لڑتا رہوں لڑتا رہوں

میں آخرش انسان ہوں انسان تو تھکتا بھی ہے

نفرت کسی کی یاد سے وحشت خود اپنے آپ سے

ویسے تو یوں ہوتا نہیں لیکن کبھی ہوتا بھی ہے

اب تو سمیرؔ اس دشت میں رہنا ہے مجھ کو عمر بھر

یہ آخری منزل نہیں یہ آخری رستہ بھی ہے