تاویل عہد فن ہی تو وحشت کا حل نہیں
Naeem Sameerتاویل عہد فن ہی تو وحشت کا حل نہیں
پیش نظر جنون ہے یارو غزل نہیں
اب اس کے بعد عہد کی تاریک رات ہے
یہ اختتام شام ہے صبح ازل نہیں
اے دوست عشق منصب فہم و شعور ہے
یہ ارتقا ہے ذہن کا کوئی خلل نہیں
اک عمر رتجگوں کی اذیت میں کاٹ دی
اب میرے خواب نیند کا رد عمل نہیں
کیا کیا عطائے نعمت رب کریم ہے
لیکن سمیرؔ درد کا نعم البدل نہیں