Poetry
- بیگانۂ منزل وہ نہیں راہ گزر میںجس کے لئے آرام ہے آلام سفر میںNadim Balkhi
- تن بدن سے جان ہی تو صرف اڑا لے جائے گیزندگی سے موت آ کر اور کیا لے جائے گیNadim Balkhi
- دست خلوص جن کی طرف ہم بڑھا گئےخنجر بکف وہی صف قاتل میں آ گئےNadim Balkhi
- دل سرابوں سے گزر کر شاد رکھدشت میں دریا کا منظر یاد رکھNadim Balkhi
- دوست کوئی جو معتبر نہ رہااعتبار اپنے آپ پر نہ رہاNadim Balkhi
- دیکھی ہے جو پت جھڑ کی فضا سوچ رہا ہوںانجام یہی ہوگا مرا سوچ رہا ہوںNadim Balkhi
- راہ جس نے چلی غافلوں کی طرحقتل بھی وہ ہوا بزدلوں کی طرحNadim Balkhi
- عقل پر اس کی گر پڑا پتھرجس نے پارس کو کہہ دیا پتھرNadim Balkhi
- مجھے جو دور سے لگتا تھا آب کا دریاگیا قریب تو پایا سراب کا دریاNadim Balkhi
- ہم نے دیکھے عجب عجب گونگےتھی زباں تو مگر تھے سب گونگےNadim Balkhi
- وضع داری کو اوڑھ کر اکثرآدمی بے لباس لگتا ہےNadim Balkhi
- یاد جس کی لیے ہے دل نادمؔدور ہو کر بھی پاس لگتا ہےNadim Balkhi