Poetry
- آنکھ والے سب تھے لیکن دیدہ ور کوئی نہ تھاکارواں بھٹکا ہوا تھا راہ بر کوئی نہ تھاNadim Ashrafi Burhanpuri
- اب مجھے اپنا بنانے کے لئے مت آناپھر کوئی خواب دکھانے کے لئے مت آناNadim Ashrafi Burhanpuri
- جو تیرے نقش کف پا پہ چل گئے ہوتےتو مہر و ماہ سے آگے نکل گئے ہوتےNadim Ashrafi Burhanpuri
- درد پر پیار آیا چوٹ بھی اچھی لگیآج پہلی بار مجھ کو زندگی اچھی لگیNadim Ashrafi Burhanpuri
- دل کو پہلے لہو لہو کرناپھر کسی کی تم آرزو کرناNadim Ashrafi Burhanpuri
- رنج و غم کی جب مرے دل میں فراوانی نہ تھیجی رہا تھا میں مگر جینے میں آسانی نہ تھیNadim Ashrafi Burhanpuri
- زہے نصیب کہ ان کی کوئی خبر آئیاندھیرا دور ہوا روشنی نظر آئیNadim Ashrafi Burhanpuri
- شکایت غم لیل و نہار کیسے کروںمیں خود کو اپنی نگاہوں میں خار کیسے کروںNadim Ashrafi Burhanpuri
- گل میں شفق میں چاند میں تاروں میں کھو گئےوہ ایک آپ ہیں جو ہزاروں میں کھو گئےNadim Ashrafi Burhanpuri
- نہ باہر ہی لگے ہے دل نہ گھر جانے کو جی چاہےسمجھ میں کچھ نہیں آتا کدھر جانے کو جی چاہےNadim Ashrafi Burhanpuri
- ہاں ان سے مری طرز ملاقات الگ ہےیہ درد یہ سوزش یہ خلش اور یہ آنسوNadim Ashrafi Burhanpuri