Poetry
- آدھے ادھورے خواب رکھیں ہیں آنکھوں کی الماری میںجن کو ہم بھی بھول گئے تھے شاید دنیا داری میںMadhavi Shankar (b. 1981)
- تمہارے بعد آنکھوں کی گلی میںکوئی آتا نہیں ویرانگی میںMadhavi Shankar (b. 1981)
- جذبے تمام دل کے ہی اندر بکھر گئےاظہار کرنا چاہا تھا الفاظ مر گئےMadhavi Shankar (b. 1981)
- جو شخص مجھ میں باقی ہے وہ مادھویؔ نہیںکچھ سال ہو چکے ہیں خبر آج کی نہیںMadhavi Shankar (b. 1981)
- چھپایا کوئی بھی غم تو چھلک گئیں آنکھیںیہ دل تو ہے مرے بس میں مگر نہیں آنکھیںMadhavi Shankar (b. 1981)
- دیوار و در کو اور بھی ویران کر گئےوہ سب بچھڑنے والے بچھڑ کر کدھر گئےMadhavi Shankar (b. 1981)
- مسائل سب اسی نے حل کئے ہیںہمیں جس شخص سے شکوے بڑے ہیںMadhavi Shankar (b. 1981)
- میری باتوں میں چھپے سارے معنی سمجھےکوئی تو ہو جو مجھے میری زبانی سمجھےMadhavi Shankar (b. 1981)
- میرے نظریے سے جو سہی ہے وہ بات کہہ دوں تو میں غلط ہوںقبول کر لوں جو جیسا کہہ دے جو اپنی رکھوں تو میں غلط ہوںMadhavi Shankar (b. 1981)
- ہم غم زدہ ہوئے تو تماشہ کہا گیاآنسو کو صرف پانی کا قطرہ کہا گیاMadhavi Shankar (b. 1981)
- یہ ہجر میری ذات پہ احسان ہی تو ہےیہ رونق حیات ترا دھیان ہی تو ہےMadhavi Shankar (b. 1981)
- ہم سے کہا گیا تھا کہ رانی بنیں گی آپیعنی کہ خود کو پہلے ہی راجا کہا گیاMadhavi Shankar (b. 1981)