Poetry
- اس حسن بے نیاز کے کچھ مرتبے تھے اورمیری اداس راتوں کے بجھتے دیے تھے اورLaiq Aajiz
- ایک دنیا بنا گئی مٹیجس گھڑی روح پا گئی مٹیLaiq Aajiz
- بادشاہی ہو کہ دریوزہ گری کا موسمبھولتا ہی نہیں وہ ہم سفری کا موسمLaiq Aajiz
- ترک جام و سبو نہ کر پائےاس لیے ہم وضو نہ کر پائےLaiq Aajiz
- جب سے مری تقدیر کا ڈوبا سورجاس روز سے اب تک نہیں دیکھا سورجLaiq Aajiz
- دشمنوں کو دوست بھائی کو ستم گر کہہ دیالوگ کیوں برہم ہیں کیا شیشے کو پتھر کہہ دیاLaiq Aajiz
- زمانہ ڈھونڈ رہا تھا کدھر گیا پانیکسی کا حکم ہوا تو ٹھہر گیا پانیLaiq Aajiz
- سجا رہے گا اندھیروں سے ہی کھنڈر میرااک ایک کر کے ہوا ختم اب سفر میراLaiq Aajiz
- صبا یہ بارگہہ حسن میں خبر کرنااسے تو چاہئے ذروں کو بھی قمر کرناLaiq Aajiz
- طنز کے تیر مری سمت چلاتے کیوں ہوتم اگر دوست ہو تو دل کو دکھاتے کیوں ہوLaiq Aajiz
- مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہاپہلے جو اضطراب تھا نہ رہاLaiq Aajiz
- مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورتمری حیات ہے اک تشنہ خواب کی صورتLaiq Aajiz