Poetry
- اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میںاے کاش چھوڑتا نہ تری رہ گزر کو میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- اہل دل جو بھی بات کہتے ہیںکوئی راز حیات کہتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میںاے زہے قسمت جو ہیں طوفان کی آغوش میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- اے جنون بندگیٔ شوق یہ کیا کر دیاان کے دھوکے میں نہ جانے کس کو سجدہ کر دیاKaif Moradaabadi (1907–1976)
- بڑھے چلو کہ زمانے کو یہ دکھانا ہےجہاں ہمارے قدم ہیں وہیں زمانہ ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئےزمانہ کچھ نہیں کرتا کبھی کسی کے لئےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- جلوے ہوں روبرو تو تماشا کرے کوئیجب کچھ نظر نہ آئے تو پھر کیا کرے کوئیKaif Moradaabadi (1907–1976)
- جنون شوق کا حاصل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےکہاں دونوں کی ہے منزل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- جنون عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئےوہ میرے پاس تو آئے مگر اداس آئےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- جنون عشق یہ کیا رنگ محفل ہے جہاں میں ہوںجو عالم ہے مرا ہی عالم دل ہے جہاں میں ہوںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- جو اٹھی تھی میری طرف کبھی دل معتبر کی تلاش میںمیری ساری عمر گزر گئی اسی اک نظر کی تلاش میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- چمن والوں سے برق بے اماں کچھ اور کہتی ہےمگر میری تو شاخ آشیاں کچھ اور کہتی ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- حالت دل وہی رہی مقصد دل کو پا کے بھیہم تو سکوں نہ پا سکے ان کے قریب جا کے بھیKaif Moradaabadi (1907–1976)
- دل غم سے بھی بیزار ہے معلوم نہیں کیوںیہ عیش بھی اب یار ہے معلوم نہیں کیوںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- دل میں ہے اک راز جو ہونٹوں تک آ سکتا نہیںیعنی میں جس حال میں بھی ہوں بتا سکتا نہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- رسائی سعئ نا مشکور ہو جائے تو کیا ہوگاقدم رکھتے ہی منزل دور ہو جائے تو کیا ہوگاKaif Moradaabadi (1907–1976)
- زندگی کا کوئی حس کیسے ادا کرتے ہیںجو محبت نہیں کرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- سب جسے کہتے ہیں وقف غم جاناں ہونااولیں شرط ہے اس کے لئے انساں ہوناKaif Moradaabadi (1907–1976)
- غم نے دلوں کو رام کیا اور گزر گیاظالم نے اپنا کام کیا اور گزر گیاKaif Moradaabadi (1907–1976)
- غم ہستی نہ کچھ فکر دل و جاں ہے جہاں میں ہوںکہ ہر ہر گام پر کوئی نگہباں ہے جہاں میں ہوںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- کبھی گریاں کبھی خنداں کبھی حیراں ہوں میںمختصر ہے مری روداد کہ انساں ہوں میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- کیا خبر تھی عشق میں ایسا بھی اک دور آئے ہےبات کیسی سانس لیتا ہوں تو جی گھبرائے ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- نظر نظر سے ملائی کیوں تھی نفس نفس میں سمائے کیوں تھےانہیں تھا منظور مجھ سے پردہ تو سامنے میرے آئے کیوں تھےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- وہ غم دے رہے ہیں خوشی ہو رہی ہےحقیقت میں اب عاشقی ہو رہی ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- وہ قریب بھی ہیں تو کیا ہوا ہمیں اپنے کام سے کام ہےوہی جستجو وہی بے خودی وہی زندگی کا نظام ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیںجو پیہم جستجو کرتے ہیں برسوں غم اٹھاتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- یہ سوچتا ہوں کہ خود عارف حیات بھی ہےبشر جو محرم اسرار کائنات بھی ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- دل میں ہجوم شوق و تمنا ابھی سے ہےآنکھوں میں اک سرور کی دنیا ابھی سے ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- میرے کمرے کے بڑے طاق میں اک آئینہصورتیں سب کو دکھانے کے لئے رکھا ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)