Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میںاے کاش چھوڑتا نہ تری رہ گزر کو میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  2. اہل دل جو بھی بات کہتے ہیںکوئی راز حیات کہتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  3. ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میںاے زہے قسمت جو ہیں طوفان کی آغوش میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  4. اے جنون بندگیٔ شوق یہ کیا کر دیاان کے دھوکے میں نہ جانے کس کو سجدہ کر دیاKaif Moradaabadi (1907–1976)
  5. بڑھے چلو کہ زمانے کو یہ دکھانا ہےجہاں ہمارے قدم ہیں وہیں زمانہ ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  6. بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئےزمانہ کچھ نہیں کرتا کبھی کسی کے لئےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  7. جلوے ہوں روبرو تو تماشا کرے کوئیجب کچھ نظر نہ آئے تو پھر کیا کرے کوئیKaif Moradaabadi (1907–1976)
  8. جنون شوق کا حاصل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےکہاں دونوں کی ہے منزل نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  9. جنون عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئےوہ میرے پاس تو آئے مگر اداس آئےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  10. جنون عشق یہ کیا رنگ محفل ہے جہاں میں ہوںجو عالم ہے مرا ہی عالم دل ہے جہاں میں ہوںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  11. جو اٹھی تھی میری طرف کبھی دل معتبر کی تلاش میںمیری ساری عمر گزر گئی اسی اک نظر کی تلاش میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  12. چمن والوں سے برق بے اماں کچھ اور کہتی ہےمگر میری تو شاخ آشیاں کچھ اور کہتی ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  13. حالت دل وہی رہی مقصد دل کو پا کے بھیہم تو سکوں نہ پا سکے ان کے قریب جا کے بھیKaif Moradaabadi (1907–1976)
  14. دل غم سے بھی بیزار ہے معلوم نہیں کیوںیہ عیش بھی اب یار ہے معلوم نہیں کیوںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  15. دل میں ہے اک راز جو ہونٹوں تک آ سکتا نہیںیعنی میں جس حال میں بھی ہوں بتا سکتا نہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  16. رسائی سعئ نا مشکور ہو جائے تو کیا ہوگاقدم رکھتے ہی منزل دور ہو جائے تو کیا ہوگاKaif Moradaabadi (1907–1976)
  17. زندگی کا کوئی حس کیسے ادا کرتے ہیںجو محبت نہیں کرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  18. سب جسے کہتے ہیں وقف غم جاناں ہونااولیں شرط ہے اس کے لئے انساں ہوناKaif Moradaabadi (1907–1976)
  19. غم نے دلوں کو رام کیا اور گزر گیاظالم نے اپنا کام کیا اور گزر گیاKaif Moradaabadi (1907–1976)
  20. غم ہستی نہ کچھ فکر دل و جاں ہے جہاں میں ہوںکہ ہر ہر گام پر کوئی نگہباں ہے جہاں میں ہوںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  21. کبھی گریاں کبھی خنداں کبھی حیراں ہوں میںمختصر ہے مری روداد کہ انساں ہوں میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  22. کیا خبر تھی عشق میں ایسا بھی اک دور آئے ہےبات کیسی سانس لیتا ہوں تو جی گھبرائے ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  23. نظر نظر سے ملائی کیوں تھی نفس نفس میں سمائے کیوں تھےانہیں تھا منظور مجھ سے پردہ تو سامنے میرے آئے کیوں تھےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  24. وہ غم دے رہے ہیں خوشی ہو رہی ہےحقیقت میں اب عاشقی ہو رہی ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  25. وہ قریب بھی ہیں تو کیا ہوا ہمیں اپنے کام سے کام ہےوہی جستجو وہی بے خودی وہی زندگی کا نظام ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  26. وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیںجو پیہم جستجو کرتے ہیں برسوں غم اٹھاتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  27. یہ سوچتا ہوں کہ خود عارف حیات بھی ہےبشر جو محرم اسرار کائنات بھی ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  28. دل میں ہجوم شوق و تمنا ابھی سے ہےآنکھوں میں اک سرور کی دنیا ابھی سے ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  29. میرے کمرے کے بڑے طاق میں اک آئینہصورتیں سب کو دکھانے کے لئے رکھا ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)