Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہےدل نہیں مرا گویا ان کی راجدھانی ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  2. اللہ ی کس کا ماتم ہے وہ زلف جو بکھری جاتی ہےآنکھیں ہے کہ بھیگی جاتی ہیں دنیا ہے کہ ڈوبی جاتی ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  3. بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہےمیرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  4. تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلےترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلےKaif Bhopali (1917–1991)
  5. تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیادو روز میں گلاب سا چہرہ اتر گیاKaif Bhopali (1917–1991)
  6. تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دےتو آ کے جان رات کے منظر میں ڈال دےKaif Bhopali (1917–1991)
  7. تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہےصبح کا تارا کتنا پیارا لگتا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  8. تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہےتیرے آگے چاند پرانا لگتا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  9. جب ہمیں مسجد جانا پڑا ہےراہ میں اک مے خانہ پڑا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  10. جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروںدست قاتل بے ہنر ہے کیا کروںKaif Bhopali (1917–1991)
  11. جھوم کے جب رندوں نے پلا دیشیخ نے چپکے چپکے دعا دیKaif Bhopali (1917–1991)
  12. خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہےغالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  13. داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملےہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملےKaif Bhopali (1917–1991)
  14. در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئیپھر یہ بارش میری تنہائی چرانے آئیKaif Bhopali (1917–1991)
  15. دوستو اب تم نہ دیکھو گے یہ دنختم ہیں ہم پر ستم آرائیاںKaif Bhopali (1917–1991)
  16. سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائےسیاہی خون بن جائے قلم تلوار ہو جائےKaif Bhopali (1917–1991)
  17. کام یہی ہے شام سویرےتیری گلی کے سو سو پھیرےKaif Bhopali (1917–1991)
  18. کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھاب یہ کواڑ بند کرو خامشی کے ساتھKaif Bhopali (1917–1991)
  19. کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگامیرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگاKaif Bhopali (1917–1991)
  20. گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیاکٹ گیا دن تو ہمیں رات نے جینے نہ دیاKaif Bhopali (1917–1991)
  21. نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میںسحر ہو گئی چند انگڑائیوں میںKaif Bhopali (1917–1991)
  22. ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاںتہمتیں بد نامیاں رسوائیاںKaif Bhopali (1917–1991)
  23. ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سےشفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سےKaif Bhopali (1917–1991)
  24. ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نےدین چھڑایا دھرم چھڑایا دیس چھڑایا لوگوں نےKaif Bhopali (1917–1991)
  25. یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیںہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیںKaif Bhopali (1917–1991)
  26. اس نے یہ کہہ کر پھیر دیا خطخون سے کیوں تحریر نہیں ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  27. چار جانب دیکھ کر سچ بولئےآدمی پھرتے ہیں سرکاری بہتKaif Bhopali (1917–1991)
  28. میرے دل نے دیکھا ہے یوں بھی ان کو الجھن میںبار بار کمرے میں بار بار آنگن میںKaif Bhopali (1917–1991)
  29. مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھواپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  30. وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھادشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سےKaif Bhopali (1917–1991)