Poetry
- آدمی تھا کیا وہی اک کام کاارض پر جس کا کوئی مسکن نہ تھاJagdeesh Raj Figar
- اپنے ہی آس پاس ہوں میںخود جو اپنی اساس ہوں میںJagdeesh Raj Figar
- بالیقیں پیکر شباب ہے وہجس کی نظروں کا انتخاب ہے وہJagdeesh Raj Figar
- تپش سے بھاگ کر پیاسا گیا ہےسمندر کی طرف صحرا گیا ہےJagdeesh Raj Figar
- جو فقط رہتے ہوں دن کو بے قرارمہوشوں میں کیجئے ان کا شمارJagdeesh Raj Figar
- خاندانی قول کا تو پاس رکھرام ہے تو سامنے بن باس رکھJagdeesh Raj Figar
- ربط صحرا سے عرش کا دیکھابادلوں کا جو قافلہ دیکھاJagdeesh Raj Figar
- ظرف کہنہ گلا دیا جائےروپ اس کو نیا دیا جائےJagdeesh Raj Figar
- گگن سے دھرتی پہ آ گیا تھااجل کو اچھے سے جانتا تھاJagdeesh Raj Figar
- میں نے جب تب جدھر جدھر دیکھااپنی صورت کا ہی بشر دیکھاJagdeesh Raj Figar
- وہ آپ کے قریں ہے اسے دیکھنا نہیںوہ بھی تو مہ جبیں ہے اسے دیکھنا نہیںJagdeesh Raj Figar
- یہ ناداں ذہن ہے جو سوچتا ہےخلا میں کیا کہیں صوت و صدا ہےJagdeesh Raj Figar