Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آدمی تھا کیا وہی اک کام کاارض پر جس کا کوئی مسکن نہ تھاJagdeesh Raj Figar
  2. اپنے ہی آس پاس ہوں میںخود جو اپنی اساس ہوں میںJagdeesh Raj Figar
  3. بالیقیں پیکر شباب ہے وہجس کی نظروں کا انتخاب ہے وہJagdeesh Raj Figar
  4. تپش سے بھاگ کر پیاسا گیا ہےسمندر کی طرف صحرا گیا ہےJagdeesh Raj Figar
  5. جو فقط رہتے ہوں دن کو بے قرارمہوشوں میں کیجئے ان کا شمارJagdeesh Raj Figar
  6. خاندانی قول کا تو پاس رکھرام ہے تو سامنے بن باس رکھJagdeesh Raj Figar
  7. ربط صحرا سے عرش کا دیکھابادلوں کا جو قافلہ دیکھاJagdeesh Raj Figar
  8. ظرف کہنہ گلا دیا جائےروپ اس کو نیا دیا جائےJagdeesh Raj Figar
  9. گگن سے دھرتی پہ آ گیا تھااجل کو اچھے سے جانتا تھاJagdeesh Raj Figar
  10. میں نے جب تب جدھر جدھر دیکھااپنی صورت کا ہی بشر دیکھاJagdeesh Raj Figar
  11. وہ آپ کے قریں ہے اسے دیکھنا نہیںوہ بھی تو مہ جبیں ہے اسے دیکھنا نہیںJagdeesh Raj Figar
  12. یہ ناداں ذہن ہے جو سوچتا ہےخلا میں کیا کہیں صوت و صدا ہےJagdeesh Raj Figar