Poetry
- اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتاتو درمیاں نہ مقدر کا فیصلہ رکھتاIffat Zarrin (b. 1958)
- بے سمت راستوں پہ صدا لے گئی مجھےآہٹ مگر جنوں کی بچا لے گئی مجھےIffat Zarrin (b. 1958)
- جسم و جاں کی بستی میں سلسلے نہیں ملتےاب کسی بھی مرکز سے دائرے نہیں ملتےIffat Zarrin (b. 1958)
- خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیامختصر یہ ہے وہ میری زندگانی لے گیاIffat Zarrin (b. 1958)
- ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہےایک ہی گھر میں بہت سے اجنبی رہتے رہےIffat Zarrin (b. 1958)
- روح جسموں سے باہر بھٹکتی رہیزخمی یادوں کو آنچل سے ڈھکتی رہیIffat Zarrin (b. 1958)
- عجیب کرب مسلسل دل و نظر میں رہاوہ روشنی کا مسافر اندھیرے گھر میں رہاIffat Zarrin (b. 1958)
- گھبرا گئے ہیں وقت کی تنہائیوں سے ہماکتا چکے ہیں اپنی ہی پرچھائیوں سے ہمIffat Zarrin (b. 1958)
- منزلیں آئیں تو رستے کھو گئےآبگینے تھے کہ پتھر ہو گئےIffat Zarrin (b. 1958)
- آم جو کھائے وہ للچائےجو نہ کھائے وہ پچھتائےIffat Zarrin (b. 1958)
- وہ مل گیا تو بچھڑنا پڑے گا پھر زریںؔاسی خیال سے ہم راستے بدلتے رہےIffat Zarrin (b. 1958)