Poetry
- آپ کے شہر میں آنے والےیعنی خود جان سے جانے والےFaiz Tabassum Tonsvi
- بیگانۂ شعور وفا ہو گیا وہ شخصیہ کیا ہوا کہ مجھ سے خفا ہو گیا وہ شخصFaiz Tabassum Tonsvi
- حدیث زندگی سنتے رہے ہیںبڑی مدت سے سر دھنتے رہے ہیںFaiz Tabassum Tonsvi
- حدیث شوق کہیں یا کریں حیات کی باتہر ایک بات تری چشم التفات کی باتFaiz Tabassum Tonsvi
- حسن مجبور جفا ہے ہمیں معلوم نہ تھاعشق پابند وفا ہے ہمیں معلوم نہ تھاFaiz Tabassum Tonsvi
- کوچہ کوچہ گھوم کے دیکھا بات تو اتنی جانی ہےجتنا جتنا شہر بڑا ہے اتنی ہی ویرانی ہےFaiz Tabassum Tonsvi
- کھلا ہوا ترا چہرہ گلاب کا سا تھااور اس پہ نور کسی ماہتاب کا سا تھاFaiz Tabassum Tonsvi
- کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئےدل کیا گیا حیات کے سامان ہی گئےFaiz Tabassum Tonsvi
- ممکن ہے پھر تلافئ مافات ہو نہ ہوآ جا کہ اس کے بعد کوئی بات ہو نہ ہوFaiz Tabassum Tonsvi
- موسم اچھا ہے رت سہانی ہےمیرے لب پر تری کہانی ہےFaiz Tabassum Tonsvi
- ہر طرف جلوۂ فروزاں ہےصحن ہستی میں اک چراغاں ہےFaiz Tabassum Tonsvi
- زندگی نام ہے تغیر کاگر تغیر نہ ہو تو زیست محالFaiz Tabassum Tonsvi