Poetry
- اس کو جانے دے اگر جاتا ہےزہر کم ہو تو اتر جاتا ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- اس نے دیکھا جو مجھے عالم حیرانی میںگر پڑا ہاتھ سے آئینہ پریشانی میںFaisal Ajmi (b. 1951)
- ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھےکچھ دن پہلے تک تو سب کے تیور اچھے تھےFaisal Ajmi (b. 1951)
- تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوستکتنی تیزی سے بدلتا ہے زمانہ مرے دوستFaisal Ajmi (b. 1951)
- حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہےپیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- دکھ نہیں ہے کہ جل رہا ہوں میںروشنی میں بدل رہا ہوں میںFaisal Ajmi (b. 1951)
- رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیےآنکھیں بھی چاہیے دل بینا بھی چاہیےFaisal Ajmi (b. 1951)
- شامیانوں کی وضاحت تو نہیں کی گئی ہےآج خیرات ہے دعوت تو نہیں کی گئی ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھےاٹھا کے اگلے زمانے میں رکھ لیا ہے مجھےFaisal Ajmi (b. 1951)
- گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتےکرتے ہیں بہت لوگ مگر ہم نہیں کرتےFaisal Ajmi (b. 1951)
- مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیاسورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیاFaisal Ajmi (b. 1951)
- میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیامعاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیاFaisal Ajmi (b. 1951)
- میں غار میں تھا اور ہوا کے بغیر تھااک روز آفتاب ضیا کے بغیر تھاFaisal Ajmi (b. 1951)
- ہجر موجود ہے فسانے میںسانپ ہوتا ہے ہر خزانے میںFaisal Ajmi (b. 1951)
- ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہےمہتاب بڑی دیر سے گہنایا ہوا ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیامیرا سوال خلق خدا تک نہیں گیاFaisal Ajmi (b. 1951)
- عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہےمحبتوں کو کوئی بد دعا لگی ہوئی ہےFaisal Ajmi (b. 1951)