Poetry
- اپنے محافظوں سے ہراساں ہے زندگیاس زندگی کے حال پہ حیراں ہے زندگیEjaz Ansari (b. 1955)
- بچھڑ کے تجھ سے مجھے دکھ تو ہے ملال تو ہےمگر یہ پیار نبھانا بھی اک کمال تو ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- تمام شہر کو حیران کرنے والا ہوںمیں اپنی موت کا اعلان کرنے والا ہوںEjaz Ansari (b. 1955)
- خدا اسے بھی کسی دن زوال دیتا ہےزمانہ جس کے ہنر کی مثال دیتا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- راستہ بے زباں بے صدا بھی نہیںکوئی مڑ کر مگر دیکھتا بھی نہیںEjaz Ansari (b. 1955)
- زندگی اک سزا لگے ہے مجھےجب سے تو بے وفا لگے ہے مجھےEjaz Ansari (b. 1955)
- سب کچھ کاروباری ہےلہجہ تک بازاری ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- عجب ہی کیا ہے اگر دھند میں غبار میں ہےوہ شخص اپنے بنائے ہوئے حصار میں ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- غم حیات کا منظر بدلنے والا ہےخوشی مناؤ کہ سورج نکلنے والا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- کھو جاؤں مشت خاک میں ایسا نہیں ہوں میںدریا ہوں اپنی ذات میں قطرہ نہیں ہوں میںEjaz Ansari (b. 1955)
- کیا خبر تھی ایک دن یہ حادثہ ہو جائے گاعمر بھر چاہا جسے وہ بے وفا ہو جائے گاEjaz Ansari (b. 1955)
- موت ہر لمحہ انتظار میں ہےزندگی آج بھی ادھار میں ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- ہاتھ میں اپنے حفاظت کا عصا لے جاناگھر سے جانا تو بزرگوں کی دعا لے جاناEjaz Ansari (b. 1955)
- ہر اک تحریر نفرت کی مٹانا چاہتا ہوں میںمحبت ہی محبت کا فسانہ چاہتا ہوں میںEjaz Ansari (b. 1955)
- ہیرا ہے کہ شیشے کا جگر کاٹ رہا ہےبیٹے کی پڑھائی پہ کیا جس نے بہت خرچEjaz Ansari (b. 1955)
- یہ تیری یاد ہے تیرا خیال ہے کیا ہےاندھیری رات ہے پھر بھی بہت اجالا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- تمام شہر سے میں جنگ جیت سکتا ہوںمگر میں تم سے بچھڑتے ہی ہار جاؤں گاEjaz Ansari (b. 1955)
- زندگی دی حساب سے اس نےاور غم بے حساب لکھا ہےEjaz Ansari (b. 1955)