Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنے محافظوں سے ہراساں ہے زندگیاس زندگی کے حال پہ حیراں ہے زندگیEjaz Ansari (b. 1955)
  2. بچھڑ کے تجھ سے مجھے دکھ تو ہے ملال تو ہےمگر یہ پیار نبھانا بھی اک کمال تو ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  3. تمام شہر کو حیران کرنے والا ہوںمیں اپنی موت کا اعلان کرنے والا ہوںEjaz Ansari (b. 1955)
  4. خدا اسے بھی کسی دن زوال دیتا ہےزمانہ جس کے ہنر کی مثال دیتا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  5. راستہ بے زباں بے صدا بھی نہیںکوئی مڑ کر مگر دیکھتا بھی نہیںEjaz Ansari (b. 1955)
  6. زندگی اک سزا لگے ہے مجھےجب سے تو بے وفا لگے ہے مجھےEjaz Ansari (b. 1955)
  7. سب کچھ کاروباری ہےلہجہ تک بازاری ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  8. عجب ہی کیا ہے اگر دھند میں غبار میں ہےوہ شخص اپنے بنائے ہوئے حصار میں ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  9. غم حیات کا منظر بدلنے والا ہےخوشی مناؤ کہ سورج نکلنے والا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  10. کھو جاؤں مشت خاک میں ایسا نہیں ہوں میںدریا ہوں اپنی ذات میں قطرہ نہیں ہوں میںEjaz Ansari (b. 1955)
  11. کیا خبر تھی ایک دن یہ حادثہ ہو جائے گاعمر بھر چاہا جسے وہ بے وفا ہو جائے گاEjaz Ansari (b. 1955)
  12. موت ہر لمحہ انتظار میں ہےزندگی آج بھی ادھار میں ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  13. ہاتھ میں اپنے حفاظت کا عصا لے جاناگھر سے جانا تو بزرگوں کی دعا لے جاناEjaz Ansari (b. 1955)
  14. ہر اک تحریر نفرت کی مٹانا چاہتا ہوں میںمحبت ہی محبت کا فسانہ چاہتا ہوں میںEjaz Ansari (b. 1955)
  15. ہیرا ہے کہ شیشے کا جگر کاٹ رہا ہےبیٹے کی پڑھائی پہ کیا جس نے بہت خرچEjaz Ansari (b. 1955)
  16. یہ تیری یاد ہے تیرا خیال ہے کیا ہےاندھیری رات ہے پھر بھی بہت اجالا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  17. تمام شہر سے میں جنگ جیت سکتا ہوںمگر میں تم سے بچھڑتے ہی ہار جاؤں گاEjaz Ansari (b. 1955)
  18. زندگی دی حساب سے اس نےاور غم بے حساب لکھا ہےEjaz Ansari (b. 1955)