Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھےدرد وہ فتنہ ہے جو دل کو بٹھا کے اٹھےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  2. اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسےہے اس میں اک طلسم تمنا کہیں جسےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  3. اک طلسم عجب نما ہوں میںکیا بتاؤں تمہیں کہ کیا ہوں میںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  4. الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلےتھے پاس ایک ہم ہی جو جاں پہ کھیل نکلےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  5. اولو العزمی نہ بے باکی نہ چنچل زندگانی ہےتمہیں سوچو کہ یہ کوئی جوانی میں جوانی ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  6. بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہےدھوئیں توبہ کے اڑانے کو بہار آئی ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  7. باعث کوئی ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاورنہ مجھے سودا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  8. بتائیں کیا تجھ کو چشم پر نم ہوا ہے کیا خوں آرزو کابنا گل داغ یاس و سرت جو دل میں قطرہ بچا لہو کاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  9. بتائیں کیا عمل عشق حقیقی کا کہاں تک ہےزمیں کیا آسماں تک ہے مکاں کیا لا مکاں تک ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  10. بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پرچرخ چارم کا نظر آئے سما کوٹھے پرBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  11. پانی پانی ہو گیا جوش ابر دریا بار کادیکھ کر طوفاں ہمارے دیدہ ہائے زار کاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  12. پانی سیانے دیتے ہیں کیا پھونک پھونک کردل سوز غم نے خاک کیا پھونک پھونک کرBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  13. پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میںحسن خوب کھل کھیلا اس صفت کے منظر میںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  14. جس کو خبر نہیں اسے جوش و خروش ہےجو پا گیا وہ راز وہ گم ہے خموش ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  15. حال دل کہنے کو کہتے ہو تو کب تم مجھ کوہائے جس وقت نہیں تاب تکلم مجھ کوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  16. حسن ازل کا جلوہ ہماری نظر میں ہےجو طور پر ہوا تھا دل دیدہ ور میں ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  17. حسن کی رنگینیاں کیا جلوہ ساماں ہو گئیںدل کی آنکھیں سر بسر ایمن بداماں ہو گئیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  18. خدا بھی طرف دار نکلا تمہارایہ جھگڑا چکا اب ہمارا تمہاراBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  19. دل کو جب حاصل صفائی ہو گئیجلوہ گر بت میں خدائی ہو گئیBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  20. دل کھو گیا ہمارا کسی سے ملا کے ہاتھہو دسترس تو کاٹیے دزد حنا کے ہاتھBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  21. دنیا میں بقا نہیں کسی کومرنا اک روز ہے سبھی کوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  22. ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیںسچ اگر پوچھو تو سچا آشنا ملتا نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  23. راحت کہاں نصیب تھی جو اب کہیں نہیںوہ آسماں نہیں ہے کہ اب وہ زمیں نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  24. زندگی کا کس لیے ماتم رہےملک بستا ہے مٹے یا ہم رہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  25. سارے عشاق سے ہم اچھے ہیںہاں ترے سر کی قسم اچھے ہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  26. ساقیا کس کو ہوس ہے کہ پیو اور پلاؤاب وہ دل ہی نہ رہا اور امنگیں نہ وہ چاؤBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  27. صورت حال اب تو وہ نقش خیالی ہو گیاجو مقام ماسوا تھا دل میں خالی ہو گیاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  28. عشاق میں نام ہو چکا ہےکیفیؔ بدنام ہو چکا ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  29. عشق ہی عشق ہو عاشق ہو نہ معشوق جہاںایسی اک درگہ توحید مآب اور بھی ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  30. غم دنیا نہیں پھر کون سا غم ہے ہم کوفکر و اندیشۂ عقبیٰ سے بھی رم ہے ہم کوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  31. فدا اللہ کی خلقت پہ جس کا جسم و جاں ہوگاوہی افسانۂ ہستی کا میر داستاں ہوگاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  32. قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دنآفت نئی ہے روز مصیبت ہے آئے دنBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  33. قیس کا تجھ میں جنوں جذبۂ منصور نہیںورنہ منزل گہہ دل دار تو کچھ دور نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  34. کبھی ہے آج اور کل کبھی ہے بھلا یہ عہد وصال کیا ہےہو وعدہ ایفا کہ ترک الفت یہ روزمرہ کی ٹال کیا ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  35. کس سے ٹھنڈک ہے کہ یہ سب ہیں جلانے والےنالے آہوں سے سوا آگ لگانے والےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  36. کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہےقیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  37. کوئی نہ دیکھا کہ واپس آیا خدا کے گھر ایک بار جا کروہ دیر و کعبہ میں ہے مقید خدا خدا کر خدا خدا کرBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  38. کیا ہوا مرکز ہستی اگر انساں نہ ہواآبرو خاک ہے قطرے کی جو طوفاں نہ ہواBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  39. کیوں کر چبھے نہ آنکھ میں گل خار کی طرحبھائی ہے دل کو ایک طرحدار کی طرحBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  40. لب ساغر سے سن لو زاہدو تقریر مے میخانہشکست توبہ ہی ہے یا نئی تعمیر مے خانہBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  41. لطف ہو حشر میں کچھ بات بنائے نہ بنےآنکھ بھی شوخ ستمگر سے چرائے نہ بنےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  42. مقصد حاصل نہیں ہو یا ہوجو ہونا ہے جلد اے خدا ہوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  43. میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیںبس جی بس یہ دل لگی اچھی نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  44. میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیںہائے کس ناز سے ہنس ہنس کے کہا کچھ بھی نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  45. وصل کی ان بتوں سے آس نہیںکہ ٹکے دکشنا کو پاس نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  46. ہو کے عاشق جان مرنے سے چرائے کس لئےمرد میداں جو نہ ہو میداں میں آئے کس لئےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  47. ہے عکس آئینہ دل میں کسی بلقیس ثانی کاتصور ہے مرا استاد بہزاد اور مانی کاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  48. ہے یاد یار سے اک آگ مشتعل دل میںعجب ہے خلد و جہنم ہیں متصل دل میںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  49. یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیادوستی کا تیری سودا ہو گیاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  50. یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤآخری وقت ہے اے جان من آؤ آؤBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)