Poetry
- آہ وہ شعلہ ہے جو جی کو بجھا کے اٹھےدرد وہ فتنہ ہے جو دل کو بٹھا کے اٹھےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسےہے اس میں اک طلسم تمنا کہیں جسےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- اک طلسم عجب نما ہوں میںکیا بتاؤں تمہیں کہ کیا ہوں میںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلےتھے پاس ایک ہم ہی جو جاں پہ کھیل نکلےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- اولو العزمی نہ بے باکی نہ چنچل زندگانی ہےتمہیں سوچو کہ یہ کوئی جوانی میں جوانی ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہےدھوئیں توبہ کے اڑانے کو بہار آئی ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- باعث کوئی ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاورنہ مجھے سودا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- بتائیں کیا تجھ کو چشم پر نم ہوا ہے کیا خوں آرزو کابنا گل داغ یاس و سرت جو دل میں قطرہ بچا لہو کاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- بتائیں کیا عمل عشق حقیقی کا کہاں تک ہےزمیں کیا آسماں تک ہے مکاں کیا لا مکاں تک ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پرچرخ چارم کا نظر آئے سما کوٹھے پرBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- پانی پانی ہو گیا جوش ابر دریا بار کادیکھ کر طوفاں ہمارے دیدہ ہائے زار کاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- پانی سیانے دیتے ہیں کیا پھونک پھونک کردل سوز غم نے خاک کیا پھونک پھونک کرBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میںحسن خوب کھل کھیلا اس صفت کے منظر میںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- جس کو خبر نہیں اسے جوش و خروش ہےجو پا گیا وہ راز وہ گم ہے خموش ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- حال دل کہنے کو کہتے ہو تو کب تم مجھ کوہائے جس وقت نہیں تاب تکلم مجھ کوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- حسن ازل کا جلوہ ہماری نظر میں ہےجو طور پر ہوا تھا دل دیدہ ور میں ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- حسن کی رنگینیاں کیا جلوہ ساماں ہو گئیںدل کی آنکھیں سر بسر ایمن بداماں ہو گئیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- خدا بھی طرف دار نکلا تمہارایہ جھگڑا چکا اب ہمارا تمہاراBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- دل کو جب حاصل صفائی ہو گئیجلوہ گر بت میں خدائی ہو گئیBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- دل کھو گیا ہمارا کسی سے ملا کے ہاتھہو دسترس تو کاٹیے دزد حنا کے ہاتھBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- دنیا میں بقا نہیں کسی کومرنا اک روز ہے سبھی کوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیںسچ اگر پوچھو تو سچا آشنا ملتا نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- راحت کہاں نصیب تھی جو اب کہیں نہیںوہ آسماں نہیں ہے کہ اب وہ زمیں نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- زندگی کا کس لیے ماتم رہےملک بستا ہے مٹے یا ہم رہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- سارے عشاق سے ہم اچھے ہیںہاں ترے سر کی قسم اچھے ہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- ساقیا کس کو ہوس ہے کہ پیو اور پلاؤاب وہ دل ہی نہ رہا اور امنگیں نہ وہ چاؤBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- صورت حال اب تو وہ نقش خیالی ہو گیاجو مقام ماسوا تھا دل میں خالی ہو گیاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- عشاق میں نام ہو چکا ہےکیفیؔ بدنام ہو چکا ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- عشق ہی عشق ہو عاشق ہو نہ معشوق جہاںایسی اک درگہ توحید مآب اور بھی ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- غم دنیا نہیں پھر کون سا غم ہے ہم کوفکر و اندیشۂ عقبیٰ سے بھی رم ہے ہم کوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- فدا اللہ کی خلقت پہ جس کا جسم و جاں ہوگاوہی افسانۂ ہستی کا میر داستاں ہوگاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دنآفت نئی ہے روز مصیبت ہے آئے دنBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- قیس کا تجھ میں جنوں جذبۂ منصور نہیںورنہ منزل گہہ دل دار تو کچھ دور نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- کبھی ہے آج اور کل کبھی ہے بھلا یہ عہد وصال کیا ہےہو وعدہ ایفا کہ ترک الفت یہ روزمرہ کی ٹال کیا ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- کس سے ٹھنڈک ہے کہ یہ سب ہیں جلانے والےنالے آہوں سے سوا آگ لگانے والےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہےقیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- کوئی نہ دیکھا کہ واپس آیا خدا کے گھر ایک بار جا کروہ دیر و کعبہ میں ہے مقید خدا خدا کر خدا خدا کرBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- کیا ہوا مرکز ہستی اگر انساں نہ ہواآبرو خاک ہے قطرے کی جو طوفاں نہ ہواBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- کیوں کر چبھے نہ آنکھ میں گل خار کی طرحبھائی ہے دل کو ایک طرحدار کی طرحBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- لب ساغر سے سن لو زاہدو تقریر مے میخانہشکست توبہ ہی ہے یا نئی تعمیر مے خانہBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- لطف ہو حشر میں کچھ بات بنائے نہ بنےآنکھ بھی شوخ ستمگر سے چرائے نہ بنےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- مقصد حاصل نہیں ہو یا ہوجو ہونا ہے جلد اے خدا ہوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- میرے رونے پر ہنسی اچھی نہیںبس جی بس یہ دل لگی اچھی نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیںہائے کس ناز سے ہنس ہنس کے کہا کچھ بھی نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- وصل کی ان بتوں سے آس نہیںکہ ٹکے دکشنا کو پاس نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- ہو کے عاشق جان مرنے سے چرائے کس لئےمرد میداں جو نہ ہو میداں میں آئے کس لئےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- ہے عکس آئینہ دل میں کسی بلقیس ثانی کاتصور ہے مرا استاد بہزاد اور مانی کاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- ہے یاد یار سے اک آگ مشتعل دل میںعجب ہے خلد و جہنم ہیں متصل دل میںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیادوستی کا تیری سودا ہو گیاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- یوں سسکتا مجھے تم چھوڑ نہ جاؤ آؤآخری وقت ہے اے جان من آؤ آؤBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)