Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج دل سے دعا کرے کوئیحق الفت ادا کرے کوئیDarshan Singh (1921–1989)
  2. بہت مشکل ہے ترک آرزو ربط آشنا ہو کرگزر جا وادیٔ پر خار سے باد صبا ہو کرDarshan Singh (1921–1989)
  3. تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہےمجھے منزلوں سے گریز ہے میرا راستہ کوئی اور ہےDarshan Singh (1921–1989)
  4. جذبۂ دل کو عمل میں کبھی لاؤ تو سہیاپنی منزل کی طرف پاؤں بڑھاؤ تو سہیDarshan Singh (1921–1989)
  5. دولت ملی جہان کی نام و نشاں ملےسب کچھ ملا ہمیں نہ مگر مہرباں ملےDarshan Singh (1921–1989)
  6. رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہےپھر کوئی لے کے بہاروں کا پیام آیا ہےDarshan Singh (1921–1989)
  7. عشق شبنم نہیں شرارا ہےراز یہ مجھ پہ آشکارا ہےDarshan Singh (1921–1989)
  8. قید غم حیات سے اہل جہاں مفر نہیںایسی ملی ہے شام غم جس کی کوئی سحر نہیںDarshan Singh (1921–1989)
  9. کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئیصبا کے پاؤں تھک گئے مگر بہار آ گئیDarshan Singh (1921–1989)
  10. کہیں جمال ازل ہم کو رونما نہ ملاملے تو حسن مگر حسن آپ سا نہ ملاDarshan Singh (1921–1989)
  11. گلوں پہ خاک محن کے سوا کچھ اور نہیںچمن میں یاد چمن کے سوا کچھ اور نہیںDarshan Singh (1921–1989)
  12. نگاہ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہوگااگر پھر ترک توبہ کا پیام آیا تو کیا ہوگاDarshan Singh (1921–1989)
  13. وہ سلیقہ ہمیں جینے کا سکھا دے ساقیجو غم دہر سے بیگانہ بنا دے ساقیDarshan Singh (1921–1989)
  14. ہنسی گلوں میں ستاروں میں روشنی نہ ملیملے نہ تم تو کہیں بھی ہمیں خوشی نہ ملیDarshan Singh (1921–1989)
  15. ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہDarshan Singh (1921–1989)
  16. رہ عشق کی انتہا چاہتا ہوںجنوں سا کوئی رہنما چاہتا ہوںDarshan Singh (1921–1989)
  17. رہ گیا راہ میں جب کچھ بھی نہ کانٹوں کے سواتیرگی جھوٹ کی جب چھا گئی سچائی پرDarshan Singh (1921–1989)
  18. فکر و آلام کے بادل میں ہیں انوار حیاتروشنی کیا کسی تنویر کا پرتو بھی نہیںDarshan Singh (1921–1989)