Poetry
- آج دل سے دعا کرے کوئیحق الفت ادا کرے کوئیDarshan Singh (1921–1989)
- بہت مشکل ہے ترک آرزو ربط آشنا ہو کرگزر جا وادیٔ پر خار سے باد صبا ہو کرDarshan Singh (1921–1989)
- تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہےمجھے منزلوں سے گریز ہے میرا راستہ کوئی اور ہےDarshan Singh (1921–1989)
- جذبۂ دل کو عمل میں کبھی لاؤ تو سہیاپنی منزل کی طرف پاؤں بڑھاؤ تو سہیDarshan Singh (1921–1989)
- دولت ملی جہان کی نام و نشاں ملےسب کچھ ملا ہمیں نہ مگر مہرباں ملےDarshan Singh (1921–1989)
- رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہےپھر کوئی لے کے بہاروں کا پیام آیا ہےDarshan Singh (1921–1989)
- عشق شبنم نہیں شرارا ہےراز یہ مجھ پہ آشکارا ہےDarshan Singh (1921–1989)
- قید غم حیات سے اہل جہاں مفر نہیںایسی ملی ہے شام غم جس کی کوئی سحر نہیںDarshan Singh (1921–1989)
- کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئیصبا کے پاؤں تھک گئے مگر بہار آ گئیDarshan Singh (1921–1989)
- کہیں جمال ازل ہم کو رونما نہ ملاملے تو حسن مگر حسن آپ سا نہ ملاDarshan Singh (1921–1989)
- گلوں پہ خاک محن کے سوا کچھ اور نہیںچمن میں یاد چمن کے سوا کچھ اور نہیںDarshan Singh (1921–1989)
- نگاہ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہوگااگر پھر ترک توبہ کا پیام آیا تو کیا ہوگاDarshan Singh (1921–1989)
- وہ سلیقہ ہمیں جینے کا سکھا دے ساقیجو غم دہر سے بیگانہ بنا دے ساقیDarshan Singh (1921–1989)
- ہنسی گلوں میں ستاروں میں روشنی نہ ملیملے نہ تم تو کہیں بھی ہمیں خوشی نہ ملیDarshan Singh (1921–1989)
- ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہDarshan Singh (1921–1989)
- رہ عشق کی انتہا چاہتا ہوںجنوں سا کوئی رہنما چاہتا ہوںDarshan Singh (1921–1989)
- رہ گیا راہ میں جب کچھ بھی نہ کانٹوں کے سواتیرگی جھوٹ کی جب چھا گئی سچائی پرDarshan Singh (1921–1989)
- فکر و آلام کے بادل میں ہیں انوار حیاتروشنی کیا کسی تنویر کا پرتو بھی نہیںDarshan Singh (1921–1989)