Poetry
- آواز کی دوری پہ کھڑا سوچ رہا ہوںاب کون مجھے دے گا صدا سوچ رہا ہوںDanish Naqwi (b. 1995)
- پیاسے چہروں پر لگتے ہیں خالی ہاتھ دعاؤں کےپھر بھی کون سمجھ سکتا ہے دکھ سوکھے دریاؤں کےDanish Naqwi (b. 1995)
- راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکامیں کہ اس پار تھا اس پار نہیں دیکھ سکاDanish Naqwi (b. 1995)
- سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھےدراصل اداکار حقیقت میں مرے تھےDanish Naqwi (b. 1995)
- کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گیضرور تجھ کو کسی کی کمی ہوا کرے گیDanish Naqwi (b. 1995)
- کسی کو اپنی کسی کو اپنی کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہےہمیں تو لے دے کے ساری دنیا میں صرف تیری پڑی ہوئی ہےDanish Naqwi (b. 1995)
- ماحول مناسب ہو تو اوپر نہیں جاتےہم تازہ گھٹن چھوڑ کے چھت پر نہیں جاتےDanish Naqwi (b. 1995)
- مشکل دن بھی آئے لیکن فرق نہ آیا یاری میںہم نے پوری جان لگائی اس کی تابع داری میںDanish Naqwi (b. 1995)
- مصیبتیں سر برہنہ ہوں گی عقیدتیں بے لباس ہوں گیتھکے ہوؤں کو کہاں پتہ تھا کہ صبحیں یوں بد حواس ہوں گیDanish Naqwi (b. 1995)
- نظر تو آیا مگر جا بجا نہیں آیازمیں پہ آدمی جیسا خدا نہیں آیاDanish Naqwi (b. 1995)
- وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کوگلے لگا تو پتہ بھی نہیں چلا مجھ کوDanish Naqwi (b. 1995)
- یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنےکوئی پہچان نہ ہو ٹھیک سے چہرہ نہ بنےDanish Naqwi (b. 1995)