Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آواز کی دوری پہ کھڑا سوچ رہا ہوںاب کون مجھے دے گا صدا سوچ رہا ہوںDanish Naqwi (b. 1995)
  2. پیاسے چہروں پر لگتے ہیں خالی ہاتھ دعاؤں کےپھر بھی کون سمجھ سکتا ہے دکھ سوکھے دریاؤں کےDanish Naqwi (b. 1995)
  3. راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکامیں کہ اس پار تھا اس پار نہیں دیکھ سکاDanish Naqwi (b. 1995)
  4. سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھےدراصل اداکار حقیقت میں مرے تھےDanish Naqwi (b. 1995)
  5. کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گیضرور تجھ کو کسی کی کمی ہوا کرے گیDanish Naqwi (b. 1995)
  6. کسی کو اپنی کسی کو اپنی کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہےہمیں تو لے دے کے ساری دنیا میں صرف تیری پڑی ہوئی ہےDanish Naqwi (b. 1995)
  7. ماحول مناسب ہو تو اوپر نہیں جاتےہم تازہ گھٹن چھوڑ کے چھت پر نہیں جاتےDanish Naqwi (b. 1995)
  8. مشکل دن بھی آئے لیکن فرق نہ آیا یاری میںہم نے پوری جان لگائی اس کی تابع داری میںDanish Naqwi (b. 1995)
  9. مصیبتیں سر برہنہ ہوں گی عقیدتیں بے لباس ہوں گیتھکے ہوؤں کو کہاں پتہ تھا کہ صبحیں یوں بد حواس ہوں گیDanish Naqwi (b. 1995)
  10. نظر تو آیا مگر جا بجا نہیں آیازمیں پہ آدمی جیسا خدا نہیں آیاDanish Naqwi (b. 1995)
  11. وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کوگلے لگا تو پتہ بھی نہیں چلا مجھ کوDanish Naqwi (b. 1995)
  12. یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنےکوئی پہچان نہ ہو ٹھیک سے چہرہ نہ بنےDanish Naqwi (b. 1995)