Poetry
- اشکوں کو اپنی آنکھ میں پیہم لیے ہوئےہم چل رہے ہیں جیسے شرابی پیے ہوئےDanish Asari (b. 1991)
- ترا نشانہ ہوں میں تیر بن کے مجھ میں آمیں اک فریم ہوں تصویر بن کے مجھ میں آDanish Asari (b. 1991)
- تھوڑی حیران تھی گھبرائی تھی شرمائی بہتحسرت دید بجھی بجھ کے بھی تڑپائی بہتDanish Asari (b. 1991)
- حجازی لے گئی ہم نے بھلائے طور ترکانیبچی لے دے کے ہم میں اب فقط اپنوں کی من مانیDanish Asari (b. 1991)
- دل نے کہا تھا کافی پہلے عشق کا اک افسانہ لکھبیگانوں کو اپنا لکھ دے اپنوں کو بیگانہ لکھDanish Asari (b. 1991)
- سنو کہ عشق و محبت کا تاجدار ہوں میںمحبتوں کے سفینے پہ اب سوار ہوں میںDanish Asari (b. 1991)
- مجھ پہ الزام لگاتے ہو لگائے جاؤخون دل اپنا جلاتے ہو جلائے جاؤDanish Asari (b. 1991)
- وہ شخص آج مجھ کو ایک آئنہ دکھا گیاطلب کے بھی اصول ہیں یہی مجھے بتا گیاDanish Asari (b. 1991)
- ہم وہ مجبور کہ ہجرت بھی نہیں کر سکتےیعنی آزادی کی چاہت بھی نہیں کر سکتےDanish Asari (b. 1991)
- یہ الگ بات کہ پیشانی پہ بل آئے گاغور کرتے رہو کچھ حل بھی نکل آئے گاDanish Asari (b. 1991)