Poetry
- اب اجڑنے کے ہم نہ بسنے کےکٹ گئے جال سارے پھنسنے کےBakul Dev (b. 1980)
- اپنا بگڑا ہوا بناؤ لیےجی رہے ہیں وہی سبھاؤ لیےBakul Dev (b. 1980)
- بار دیگر یہ فلسفے دیکھوںزخم پھر سے ہرے بھرے دیکھوںBakul Dev (b. 1980)
- بارشوں میں اب کے یاد آئے بہتابر جو برسے نہیں چھائے بہتBakul Dev (b. 1980)
- ترا لحظہ وہی تلوار جیسا تھامری گردن میں خم ہر بار جیسا تھاBakul Dev (b. 1980)
- جان لے لے نہ ضبط آہ کہیںرو لیا کیجے گاہ گاہ کہیںBakul Dev (b. 1980)
- جو ہے چشمہ اسے سراب کروشہر تشنہ میں انقلاب کروBakul Dev (b. 1980)
- چال اپنی ادا سے چلتے ہیںہم کہاں کج روی سے ٹلتے ہیںBakul Dev (b. 1980)
- حادثات اب کے سفر میں نئے ڈھب سے آئےکشتیاں بھی نہیں ڈوبی نہ کنارے آئےBakul Dev (b. 1980)
- دل سے بے سود اور جاں سے خرابہو رہا ہوں کہاں کہاں سے خرابBakul Dev (b. 1980)
- سماعت کے لیے اک امتحاں ہےخموشی ان دنوں مثل بیاں ہےBakul Dev (b. 1980)
- کم نہ ہوگی یہ سرگرانی کیایوں ہی گزرے گی زندگانی کیاBakul Dev (b. 1980)
- کون کہتا ہے ٹھہر جانا ہےرنگ چڑھنا ہے اتر جانا ہےBakul Dev (b. 1980)
- گو ذرا تیز شعاعیں تھیں ذرا مند تھے ہمتو نے دیکھا ہی نہیں غور سے ہر چند تھے ہمBakul Dev (b. 1980)
- مرے کچھ بھی کہے کو کاٹتا ہےوہ اپنے دائرے کو کاٹتا ہےBakul Dev (b. 1980)
- ہمیں دیکھا نہ کر اڑتی نظر سےامیدوں کے نکل آتے ہیں پر سےBakul Dev (b. 1980)
- ہمیں راس آنی ہے راہوں کی گٹھریرکھو پاس اپنی پناہوں کی گٹھریBakul Dev (b. 1980)
- ہوئے ہم بے سر و سامان لیکنسفر کو کر لیا آسان لیکنBakul Dev (b. 1980)
- یہ کس کی یاد کا دل پر رفو تھاکہ بہہ جانے پہ آمادہ لہو تھاBakul Dev (b. 1980)
- سمت دنیا کے ہم گئے ہی نہیںاس علاقے سے دشمنی سی رہیBakul Dev (b. 1980)
- ہمیں اس طرح ہی ہونا تھا آبادہمارے ساتھ ویرانے لگے ہیںBakul Dev (b. 1980)