Poetry
- اٹھ چکا دل مرا زمانے سےاڑ گیا مرغ آشیانے سےاشرف علی فغاں
- اس جور و جفا سے ترے زنہار نہ ٹوٹےیہ دل تو کسی طرح سے اے یار نہ ٹوٹےاشرف علی فغاں
- اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتاتو معشوقوں کا یہ چرچا نہ ہوتااشرف علی فغاں
- اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کامر گیا آخر کو یہ طالب ترے دیدار کااشرف علی فغاں
- بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہےدامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہےاشرف علی فغاں
- بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دیناجنوں ذرا مری زنجیر کو ہلا دینااشرف علی فغاں
- حیف دل میں ترے وفا نہ ہوئیکیوں تری چشم میں حیا نہ ہوئیاشرف علی فغاں
- خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہاکاروان اشک چلتا ہی رہااشرف علی فغاں
- دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کاتیرے مجنوں کو کہاں پاس ہے رسوائی کااشرف علی فغاں
- دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیںدشت میں ناقۂ لیلیٰ کا گزر ہے کہ نہیںاشرف علی فغاں
- ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووےدنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووےاشرف علی فغاں
- عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتاکوئی کسی بندہ کا خریدار نہ ہوتااشرف علی فغاں
- عبث عبث تجھے مجھ سے حجاب آتا ہےترے لیے کوئی خانہ خراب آتا ہےاشرف علی فغاں
- عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہےایک میں آپ ہوں یا گوشۂ تنہائی ہےاشرف علی فغاں
- ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کاوہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کااشرف علی فغاں