Poetry
- اب دل کو ہم نے بندۂ جاناں بنا دیااک کافر ازل کو مسلماں بنا دیااقبال سہیل
- اسیروں میں بھی ہو جائیں جو کچھ آشفتہ سر پیداابھی دیوار زنداں میں ہوا جاتا ہے در پیدااقبال سہیل
- اف کیا مزا ملا ستم روزگار میںکیا تم چھپے تھے پردۂ لیل و نہار میںاقبال سہیل
- پیغام رہائی دیا ہر چند قضا نےدیکھا بھی نہ اس سمت اسیران وفا نےاقبال سہیل
- جو تصور سے ماورا نہ ہواوہ تو بندہ ہوا خدا نہ ہوااقبال سہیل
- حسن فطرت کی آبرو مجھ سےآب و گل میں ہے رنگ و بو مجھ سےاقبال سہیل
- زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سےتجلی گاہ ایمن ہے دل دیوانہ برسوں سےاقبال سہیل
- زنداں نصیب ہوں مرے قابو میں سر نہیںمیرا سجود ان کے لیے معتبر نہیںاقبال سہیل
- صدا فریاد کی آئے کہیں سےوہ ظالم بد گماں ہوگا ہمیں سےاقبال سہیل
- کہاں طاقت یہ روسی کو کہاں ہمت یہ جرمن کوکہ دیکھے چشم کج سے بھی مری شاخ نشیمن کواقبال سہیل
- نہ رہا ذوق رنگ و بو مجھ کواب نہ چھیڑ اے بہار تو مجھ کواقبال سہیل
- یہ عطر بیزیاں نہیں نسیم نوبہار کیاڑا کے لائی ہے صبا شمیم زلف یار کیاقبال سہیل
- گاندھیاقبال سہیل
- وہ سامنے جب آ جاتے ہیں سکتے کا سا عالم ہوتا ہےاس دل کی تباہی کیا کہئے امرت بھی جسے سم ہوتا ہےاقبال سہیل