Poetry
- ادا میں بانکپن انداز میں اک آن پیدا کرتجھے معشوق بننا ہے تو پوری شان پیدا کراحسن مارہروی
- اک نظر میں درد کھو دینا دل بیمار کایہ تو ادنیٰ سا کرشمہ ہے نگاہ یار کااحسن مارہروی
- اے دل نہ سن افسانہ کسی شوخ حسیں کاناعاقبت اندیش رہے گا نہ کہیں کااحسن مارہروی
- باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیاکوئی پری بنا کوئی دیوانہ ہو گیااحسن مارہروی
- تمہاری لن ترانی کے کرشمے دیکھے بھالے ہیںچلو اب سامنے آ جاؤ ہم بھی آنکھ والے ہیںاحسن مارہروی
- جب تک اپنے دل میں ان کا غم رہاحسرتوں کا رات دن ماتم رہااحسن مارہروی
- چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جاناجس طرح آنکھ اٹھے محو ادا ہو جانااحسن مارہروی
- دل جھکا مائل طبیعت ہو گئیآج بسم اللہ الفت ہو گئیاحسن مارہروی
- ساقی و واعظ میں ضد ہے بادہ کش چکر میں ہےتو بہ لب پر اور لب ڈوبا ہوا ساغر میں ہےاحسن مارہروی
- سنگ در بن کر بھی کیا حسرت مرے دل میں نہیںتیرے قدموں میں ہوں لیکن تیری محفل میں نہیںاحسن مارہروی
- سو حشر میں لیے دل حسرت مآب میںآباد ہو رہا ہوں جہان خراب میںاحسن مارہروی
- عشق کرتے ہیں تو اہل عشق یوں سودا کریںہوش کا سرمایہ نذر حسن بے پروا کریںاحسن مارہروی
- قاصد نئی ادا سے ادائے پیام ہومطلب یہ ہے کہ بات نہ ہو اور کلام ہواحسن مارہروی
- کشش حسن کی یہ انجمن آرائی ہےساری دنیا ترے کوچے میں سمٹ آئی ہےاحسن مارہروی
- کیا ضرورت بے ضرورت دیکھناتم نہ آئینے کی صورت دیکھنااحسن مارہروی
- کیوں چپ ہیں وہ بے بات سمجھ میں نہیں آتایہ رنگ ملاقات سمجھ میں نہیں آتااحسن مارہروی
- مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہےیہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہےاحسن مارہروی
- مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائےسو حجابوں میں جو پنہاں ہے نمایاں ہو جائےاحسن مارہروی
- نظارہ جو ہوتا ہے لب بام تمہارادنیا میں اچھلتا ہے بہت نام تمہارااحسن مارہروی
- یہاں بغیر فغاں شب بسر نہیں ہوتیوہاں اثر نہیں ہوتا خبر نہیں ہوتیاحسن مارہروی