Poetry
- اس مسافت میں کتنے در گزرےتیری منزل سے ہم کدھر گزرےAamir Azher (b. 1989)
- بدن اتار کے کپڑے بدل رہا ہے کوئینئی سرشت پہن کر نکل رہا ہے کوئیAamir Azher (b. 1989)
- بڑے دن سے ہرے ہیں پات یہاںکوئی ٹکتی نہیں ہے بات یہاںAamir Azher (b. 1989)
- بہت مشکل کی خواہش کو کبھی آساں نہیں دیکھانیا انساں بنانے میں کوئی انساں نہیں دیکھاAamir Azher (b. 1989)
- پڑھ لے گا کوئی رات کی روئی ہوئی آنکھیںہر سمت ہیں آرام سے سوئی ہوئی آنکھیںAamir Azher (b. 1989)
- ٹھہرا نہ کچھ یہاں پہ جو آیا وہ بک گیابازار میں بس ایک خریدار ٹک گیاAamir Azher (b. 1989)
- درد دل ہے نہ فلسفہ مرے پاسدال روٹی کا مسئلہ مرے پاسAamir Azher (b. 1989)
- دسترس چھن جائے گی اور نقش پا کھو جائیں گےہم وہاں پر بیٹھے بیٹھے ریت کے ہو جائیں گےAamir Azher (b. 1989)
- دیکھو یہ اس کا دیکھنا دیکھے سے آئے گااور پھر جو دیکھ لو گے تو دیکھا نہ جائے گاAamir Azher (b. 1989)
- ستاروں کی گنتی ہے ہم جانتے ہیںابھی رات باقی ہے ہم جانتے ہیںAamir Azher (b. 1989)
- کب سے آدھا ہے ماہتاب مراپورا ہوتا نہیں ہے خواب مراAamir Azher (b. 1989)
- کچھ بھی نہیں رہا ہے عہد وفا کہ تھادلی جو شہر دل تھا جو کچھ بھی تھا کہ تھاAamir Azher (b. 1989)
- کیا کسی رابطے میں رکھا ہےہم نے دل راستے میں رکھا ہےAamir Azher (b. 1989)
- گزرے ہوئے وقتوں کا نشاں تھا تو کہاں تھاہم سے جو نہاں ہے وہ عیاں تھا تو کہاں تھاAamir Azher (b. 1989)
- میں رہا عمر بھر یہیں کا رہامیں کناروں پہ بھی زمیں کا رہاAamir Azher (b. 1989)
- ناروا ثبت کیا کن کا اشارہ کر کےدیکھنا ہے یہ تماشا بھی دوبارہ کر کےAamir Azher (b. 1989)
- ناز پر یہ گداز کیسے ہےتو حقیقت مجاز کیسے ہےAamir Azher (b. 1989)
- ہم پہ لازم تھا پہنچنا سو یہاں تک پہنچےشوق رکتا ہی نہیں چاہے جہاں تک پہنچےAamir Azher (b. 1989)
- چلو ایک کام کرتے ہیںایسے بات کرتے ہیںAamir Azher (b. 1989)
- میں تم سے محبت کرتا ہوں کرتا ہوں محبت تم سے میںاس بات کی کوئی حد ہے کیا کہتا ہی رہوں ہر لہجے میںAamir Azher (b. 1989)