Poetry
- وصل کی آرزو کئے نہ بنینہ بنی جستجو کئے نہ بنیDagh Dehlvi (1831–1905)
- وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرمسار آیارقیب پر مجھے بے اختیار پیار آیاDagh Dehlvi (1831–1905)
- وہ جو بولیں تو بات جاتی ہےچپ رہوں میں تو رات جاتی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- وہ زمانہ نظر نہیں آتاکچھ ٹھکانا نظر نہیں آتاDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہاتھ نکلے اپنے دونوں کام کےدل کو تھاما ان کا دامن تھام کےDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہم اپنے ہی سر لیں گے مصیبت ہو کسی کیآئے گی اسی جان پہ آفت ہو کسی کیDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہوا جب سامنا اس خوب رو سےاڑا ہے رنگ گل کا پہلے بو سےDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہوا جو ان کی خاموشی سے کچھ ملال مجھےجواب دینے لگی طاقت سوال مجھےDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئیآنکھ میں فتنہ گری دل میں شرارت آئیDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہیں بہت سے عاشق دلگیر جمعتیرے ترکش میں ہیں کتنے تیر جمعDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہے طرفہ تماشہ سر بازار محبتسر بیچتے پھرتے ہیں خریدار محبتDagh Dehlvi (1831–1905)
- یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پررکھ لیا تو نے تو عشاق کو تلواروں پرDagh Dehlvi (1831–1905)
- یوں وہ پیغام سے تو آئے گاغیر کے نام سے تو آئے گاDagh Dehlvi (1831–1905)
- یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہےدبی دبی ترے لب سے ہنسی نکلتی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- یہ جو ہے حکم مرے پاس نہ آئے کوئیاس لیے روٹھ رہے ہیں کہ منائے کوئیDagh Dehlvi (1831–1905)
- پند نامہDagh Dehlvi (1831–1905)
- اے فلک چاہیئے جی بھر کے نظارہ ہم کوجا کے آنا نہیں دنیا میں دوبارہ ہم کوDagh Dehlvi (1831–1905)
- بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیںہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- برسوں آنکھوں میں رہے آنکھوں سے پھر کر دل میں آئےراہ سیدھی تھی مگر پہنچے بڑے چکر سے آپDagh Dehlvi (1831–1905)
- ذرا وصل پر ہو اشارہ تمہاراابھی فیصلہ ہے ہمارا تمہاراDagh Dehlvi (1831–1905)
- ذکر میرا اگر آ جاتا ہےسن کے وہ صاف اڑا جاتا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھوامتحاں عشق و ہوس کا یہ نیا رکھا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- عرش و کرسی پہ کیا خدا ملتاآگے بڑھتے تو کچھ پتہ ملتاDagh Dehlvi (1831–1905)
- قول تیرا شوق میرا چاہیئےجھوٹ سچ کے واسطے کیا چاہیئےDagh Dehlvi (1831–1905)
- کر نہ لے اپنا ٹھکانہ دشمندوست نادان ہے دانا دشمنDagh Dehlvi (1831–1905)
- مطلب کی تم سنو تو ذرا کوئی کچھ کہےجب بے سنے خفا ہو تو کیا کوئی کچھ کہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- نگاہ شوخ جب اس سے لڑی ہےتو بجلی تھرتھرا کر گر پڑی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھیمیں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گاDagh Dehlvi (1831–1905)
- آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والےآج بے موت مریں گے مرے مرنے والےDagh Dehlvi (1831–1905)
- بات تک کرنی نہ آتی تھی تمہیںیہ ہمارے سامنے کی بات ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہوہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیےDagh Dehlvi (1831–1905)
- تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کودوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کوDagh Dehlvi (1831–1905)
- تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتاوہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتاDagh Dehlvi (1831–1905)
- چپ چاپ سنتی رہتی ہے پہروں شب فراقتصویر یار کو ہے مری گفتگو پسندDagh Dehlvi (1831–1905)
- حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئےاور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والےDagh Dehlvi (1831–1905)
- خبر سن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سےخدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میںDagh Dehlvi (1831–1905)
- دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دےجو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دےDagh Dehlvi (1831–1905)
- ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہےاس ادا کا کہیں جواب بھی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- ساقیا تشنگی کی تاب نہیںزہر دے دے اگر شراب نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کوخوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کاDagh Dehlvi (1831–1905)
- عاشقی سے ملے گا اے زاہدبندگی سے خدا نہیں ملتاDagh Dehlvi (1831–1905)
- عرض احوال کو گلا سمجھےکیا کہا میں نے آپ کیا سمجھےDagh Dehlvi (1831–1905)
- کل تک تو آشنا تھے مگر آج غیر ہودو دن میں یہ مزاج ہے آگے کی خیر ہوDagh Dehlvi (1831–1905)
- کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دیناتخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- کہنے دیتی نہیں کچھ منہ سے محبت میریلب پہ رہ جاتی ہے آ آ کے شکایت میریDagh Dehlvi (1831–1905)
- لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سےالٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسےDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہاتھ رکھ کر جو وہ پوچھے دل بیتاب کا حالہو بھی آرام تو کہہ دوں مجھے آرام نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔجو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گےتمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لیناDagh Dehlvi (1831–1905)
- یوں بھی ہزاروں لاکھوں میں تم انتخاب ہوپورا کرو سوال تو پھر لا جواب ہوDagh Dehlvi (1831–1905)