ہاتھ رکھ کر جو وہ پوچھے دل بیتاب کا حال

Dagh Dehlvi (1831–1905)

ہاتھ رکھ کر جو وہ پوچھے دل بیتاب کا حال

ہو بھی آرام تو کہہ دوں مجھے آرام نہیں