Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. جہان علم کو تسلیم ہے وقار تراادب کے پھولوں سے دامن ہے لالہ زار تراJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  2. جہاں میں غم بھی ہے روشن تریں ستاروں میںدکھاتا راہ ہے ظلمت کے خارزاروں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  3. چمن میں ناز سے اٹھکھیلیاں کرتی بہار آئیگلوں کا پیرہن پہنے وہ جان انتظار آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  4. دل کے بجھے چراغ جلاتی چلی گئیقدموں سے سوئے فتنے جگاتی چلی گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  5. زندگی بہتی رہی آب رواں کی مانندکبھی ہلکی سی کبھی خواب گراں کی مانندJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  6. شاعر ہندوستاں اے شاعر جادو بیاںہند کے خم خانۂ عرفاں کے اے پیر مغاںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  7. شہر مشہور زمانہ دیکھنے آیا ہوں میںراجدھانی تیری رعنا دیکھنے آیا ہوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  8. کاش نور سحر کی کوئی کرنزلف سے کرتی مجھ کو ہم آغوشJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  9. کہاں گیا وہ زمانہ کہ جس کی یاد میں آجبھلائے بیٹھا ہوں خود کو پتا نہیں ملتاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  10. کیا نغمہ ہائے کیف کا دریا بہا گیاخود حسن کو جہاں میں حسیں تر بنا گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  11. میری سوئی ہوئی قسمت کو جگانے آ جاآ جا آ جا مری بگڑی کو بنانے آ جاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  12. یوں آئے ہیں گھر گھر کے یہ دکھ درد کے بادلتاریک فضاؤں میں گھلا جیسے ہو کاجلJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  13. اپنا یہ چراغ دل مدھم ہی سہی لیکندنیا کے اندھیروں سے تنہا ہی یہ لڑتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  14. اس درجہ کبھی جاذب یہ دنیا نہ تھی پہلےیہ کس کے تصور میں تصویر نظر آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  15. اس سینۂ ویراں میں کھلائے نہ کبھی پھولکیوں باغ پہ اتراتی رہی باد صبا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  16. اس طرح بے کیف گزرا اے حبیبؔ اپنا شبابجس طرح سے سونے گھر میں جلتا ہے کوئی چراغJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  17. اس عالم فانی میں سدا کون رہا ہےاک نام ہے اللہ کا اک نقش وفا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  18. اس قدر وعدے کا انداز حسیں ہوتا ہےکہ ترے جھوٹ پہ بھی سچ کا یقیں ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  19. انداز مقدر کے ہیں گیسوئے جاناں سےجو گاہ الجھتے ہیں اور گاہ سنورتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  20. انساں کے درد و غم کا کہیں ذکر ہی نہیںہے بات شیخ کی تو کبھی برہمن کی باتJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  21. انساں کے دل کی خیر زمیں آسماں کی خیرہر روز گل کھلاتے ہیں انساں نئے نئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  22. ان سے ہنستے ہی ہنستے محبت سی شےہونے والی کہیں تھی مگر ہو گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  23. ان کے ہونٹوں پر آیا تبسم ادھرنبض عالم ادھر تیز تر ہو گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  24. بچھڑے مجھ سے اس طرح وہ زندگی کے ہم سفربجھ گئے ہوں جلتے جلتے جیسے رستے کے چراغJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  25. بھیس میں مسرت کے غم کہیں نہ آیا ہواس سبب سے ڈر ڈر کر ہم خوشی سے ملتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  26. بیداد مقدر سے دل میرا الجھتا ہےجب آپ نظر مجھ پر کچھ لطف سے کرتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  27. پا کے اک تیرا تبسم مسکرائی کائناتجھوم اٹھا وہ بھی دل جینے سے جو بیزار تھاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  28. تیری یادوں کا ہی سرمایا لئے بیٹھے ہیںہم کبھی بے سر و سامان نہ ہونے پائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  29. ٹوٹ جاتے ہیں جو دنیا کے سہارے سارےپردۂ غیب سے ہوتا ہے سہارا پیداJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  30. جب تھکے ہاتھوں سے پتوار بھی گر جاتے ہیںعین گرداب میں ہوتا ہے کنارہ پیداJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  31. جس پہ اک بار جلے ہیں ترے قدموں کے چراغراستے وہ کبھی سنسان نہ ہونے پائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  32. جگر کے داغ دکھانے سے فائدہ کیا ہےابھی زمانے کے حالات سازگار نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  33. جنوں ہی ساتھ رہے زندگی میں میرے حبیبؔسفر میں اور کوئی ہم سفر ملے نہ ملےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  34. جہاں حسیں ہے محبت کی دل نوازی سےمگر یہ راز کوئی خال خال ہی جانےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  35. جہاں کہیں بھی کوئی دل فگار ہوتا ہےوہیں پہ سایۂ پروردگار ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  36. چھوڑ آتے ہیں ہر جانب کچھ نقش وفا اپنےہم زیست کی راہوں سے جس وقت گزرتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  37. حال دل پر ہنسا کبھی رویایوں مری عمر بے ثبات گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  38. حال دل کہتے ہی آ جاتی ہے جب یاد ان کیہم کہیں ہوتے ہیں افسانہ کہیں ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  39. حبیبؔ خود ہی بنائیں گے روز و شب اپنےہوا ہی کیا جو زمانے نے ساتھ چھوڑ دیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  40. خیال یار کے روشن دیے کرو ورنہاندھیری رات میں منزل کا اعتبار نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  41. دل ٹوٹ کے ہی آخر بنتا ہے کسی قابلتخریب کے پردے میں تعمیر نظر آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  42. دل کشی تیرے تصور کی رہی روز افزوںباہمی ربط کا ہر چند وہ نقشہ نہ رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  43. دونوں ہاتھوں سے مسرت کو لٹایا ہے حبیبؔغم کی دولت تو مگر تم سے لٹائی نہ گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  44. سہہ لوں گا اے حبیبؔ ستم ہائے روزگارحاصل اگر ہو دوست کی پیاری نظر مجھےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  45. شب غم کا حبیبؔ شکوہ کیوںدیکھ وہ پو پھٹی وہ رات آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  46. عقل انساں نے بٹھا رکھے ہیں پہرے دل پردل کی کیا بات کہے گا جو نہ دیوانہ بنےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  47. عمر اپنی تو اسی طور سے گزری ہے حبیبؔرہا طوفاں ہی نگاہوں میں کنارہ نہ رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  48. کسی کے جلوؤں سے معمور ہے جہاں اپنانہیں یہ فکر کہ دنیا نے ساتھ چھوڑ دیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  49. گل ہی کبھی تو منتخب روزگار تھاخاروں پہ اب تو آیا ہے موسم بہار کاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  50. مانوس اس قدر ہوں میں لذت سے درد کیدل ہے کہ ڈھونڈ لیتا ہے پیکاں نئے نئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)