Poetry
- جہان علم کو تسلیم ہے وقار تراادب کے پھولوں سے دامن ہے لالہ زار تراJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جہاں میں غم بھی ہے روشن تریں ستاروں میںدکھاتا راہ ہے ظلمت کے خارزاروں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- چمن میں ناز سے اٹھکھیلیاں کرتی بہار آئیگلوں کا پیرہن پہنے وہ جان انتظار آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل کے بجھے چراغ جلاتی چلی گئیقدموں سے سوئے فتنے جگاتی چلی گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- زندگی بہتی رہی آب رواں کی مانندکبھی ہلکی سی کبھی خواب گراں کی مانندJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- شاعر ہندوستاں اے شاعر جادو بیاںہند کے خم خانۂ عرفاں کے اے پیر مغاںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- شہر مشہور زمانہ دیکھنے آیا ہوں میںراجدھانی تیری رعنا دیکھنے آیا ہوں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کاش نور سحر کی کوئی کرنزلف سے کرتی مجھ کو ہم آغوشJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کہاں گیا وہ زمانہ کہ جس کی یاد میں آجبھلائے بیٹھا ہوں خود کو پتا نہیں ملتاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کیا نغمہ ہائے کیف کا دریا بہا گیاخود حسن کو جہاں میں حسیں تر بنا گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- میری سوئی ہوئی قسمت کو جگانے آ جاآ جا آ جا مری بگڑی کو بنانے آ جاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- یوں آئے ہیں گھر گھر کے یہ دکھ درد کے بادلتاریک فضاؤں میں گھلا جیسے ہو کاجلJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اپنا یہ چراغ دل مدھم ہی سہی لیکندنیا کے اندھیروں سے تنہا ہی یہ لڑتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اس درجہ کبھی جاذب یہ دنیا نہ تھی پہلےیہ کس کے تصور میں تصویر نظر آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اس سینۂ ویراں میں کھلائے نہ کبھی پھولکیوں باغ پہ اتراتی رہی باد صبا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اس طرح بے کیف گزرا اے حبیبؔ اپنا شبابجس طرح سے سونے گھر میں جلتا ہے کوئی چراغJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اس عالم فانی میں سدا کون رہا ہےاک نام ہے اللہ کا اک نقش وفا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اس قدر وعدے کا انداز حسیں ہوتا ہےکہ ترے جھوٹ پہ بھی سچ کا یقیں ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- انداز مقدر کے ہیں گیسوئے جاناں سےجو گاہ الجھتے ہیں اور گاہ سنورتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- انساں کے درد و غم کا کہیں ذکر ہی نہیںہے بات شیخ کی تو کبھی برہمن کی باتJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- انساں کے دل کی خیر زمیں آسماں کی خیرہر روز گل کھلاتے ہیں انساں نئے نئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ان سے ہنستے ہی ہنستے محبت سی شےہونے والی کہیں تھی مگر ہو گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ان کے ہونٹوں پر آیا تبسم ادھرنبض عالم ادھر تیز تر ہو گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- بچھڑے مجھ سے اس طرح وہ زندگی کے ہم سفربجھ گئے ہوں جلتے جلتے جیسے رستے کے چراغJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- بھیس میں مسرت کے غم کہیں نہ آیا ہواس سبب سے ڈر ڈر کر ہم خوشی سے ملتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- بیداد مقدر سے دل میرا الجھتا ہےجب آپ نظر مجھ پر کچھ لطف سے کرتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- پا کے اک تیرا تبسم مسکرائی کائناتجھوم اٹھا وہ بھی دل جینے سے جو بیزار تھاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- تیری یادوں کا ہی سرمایا لئے بیٹھے ہیںہم کبھی بے سر و سامان نہ ہونے پائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ٹوٹ جاتے ہیں جو دنیا کے سہارے سارےپردۂ غیب سے ہوتا ہے سہارا پیداJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جب تھکے ہاتھوں سے پتوار بھی گر جاتے ہیںعین گرداب میں ہوتا ہے کنارہ پیداJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جس پہ اک بار جلے ہیں ترے قدموں کے چراغراستے وہ کبھی سنسان نہ ہونے پائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جگر کے داغ دکھانے سے فائدہ کیا ہےابھی زمانے کے حالات سازگار نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جنوں ہی ساتھ رہے زندگی میں میرے حبیبؔسفر میں اور کوئی ہم سفر ملے نہ ملےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جہاں حسیں ہے محبت کی دل نوازی سےمگر یہ راز کوئی خال خال ہی جانےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جہاں کہیں بھی کوئی دل فگار ہوتا ہےوہیں پہ سایۂ پروردگار ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- چھوڑ آتے ہیں ہر جانب کچھ نقش وفا اپنےہم زیست کی راہوں سے جس وقت گزرتے ہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- حال دل پر ہنسا کبھی رویایوں مری عمر بے ثبات گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- حال دل کہتے ہی آ جاتی ہے جب یاد ان کیہم کہیں ہوتے ہیں افسانہ کہیں ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- حبیبؔ خود ہی بنائیں گے روز و شب اپنےہوا ہی کیا جو زمانے نے ساتھ چھوڑ دیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- خیال یار کے روشن دیے کرو ورنہاندھیری رات میں منزل کا اعتبار نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل ٹوٹ کے ہی آخر بنتا ہے کسی قابلتخریب کے پردے میں تعمیر نظر آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل کشی تیرے تصور کی رہی روز افزوںباہمی ربط کا ہر چند وہ نقشہ نہ رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دونوں ہاتھوں سے مسرت کو لٹایا ہے حبیبؔغم کی دولت تو مگر تم سے لٹائی نہ گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- سہہ لوں گا اے حبیبؔ ستم ہائے روزگارحاصل اگر ہو دوست کی پیاری نظر مجھےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- شب غم کا حبیبؔ شکوہ کیوںدیکھ وہ پو پھٹی وہ رات آئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- عقل انساں نے بٹھا رکھے ہیں پہرے دل پردل کی کیا بات کہے گا جو نہ دیوانہ بنےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- عمر اپنی تو اسی طور سے گزری ہے حبیبؔرہا طوفاں ہی نگاہوں میں کنارہ نہ رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کسی کے جلوؤں سے معمور ہے جہاں اپنانہیں یہ فکر کہ دنیا نے ساتھ چھوڑ دیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- گل ہی کبھی تو منتخب روزگار تھاخاروں پہ اب تو آیا ہے موسم بہار کاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- مانوس اس قدر ہوں میں لذت سے درد کیدل ہے کہ ڈھونڈ لیتا ہے پیکاں نئے نئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)