Poetry
- لو فقیروں کی دعا ہر طرح آباد رہوخود رہو موجیں کرو تازے رہو شاد رہوInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام الٹاتو کیا بہک کے میں نے اسے اک سلام الٹاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- مل خون جگر میرا ہاتھوں سے حنا سمجھےمیں اور تو کیا کوسوں پر تم سے خدا سمجھےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- مل گئے پر حجاب باقی ہےفکر ناز و عتاب باقی ہےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- میاں چشم جادو پہ اتنا گھمنڈخط و خال و گیسو پہ اتنا گھمنڈInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- ناداں کہاں طرب کا سرانجام اور عشقکچھ بھی تجھے شعور ہے آرام اور عشقInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- نہ تو کام رکھیے شکار سے نہ تو دل لگائیے سیر سےبس اب آگے حضرت عشق جی چلے جائیے گھر ہی کو خیر سےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہخشت خم خانہ ہے یاں اپنے تو سر کا تکیہInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑیآنکھ نرگس سے بھی دو چار گھڑی مجھ سے لڑیInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- وہ جو شخص اپنے ہی تاڑ میں سو چھپا ہے دل ہی کی آڑ میںنہ وہ بستی میں نہ اجاڑ میں نہ وہ جھاڑ میں نہ پہاڑ میںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- وہ دیکھا خواب قاصر جس سے ہے اپنی زباں اور ہمکہ گویا ایک جا ہے اس میں ہے وہ نوجواں اور ہمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- ہیں جو مروج مہر و وفا کے سب سر رشتے بھول گئےپھر گئے تم تو قول و قسم سے اپنے نوشتے بھول گئےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- ہے ترا گال مال بوسے کاکیوں نہ کیجے سوال بوسے کاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- ہے جس میں قفل خانۂ خمار توڑیئےیعنی در بہشت کو یکبار توڑیئےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- ہے مجھ کو ربط بسکہ غزالان رم کے ساتھچونکوں ہوں دیکھ سائے کو اپنے قدم کے ساتھInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- یاس و امید و شادی و غم نے دھوم اٹھائی سینہ میںخوب مجھے ہے آج دھما دھم مار کٹائی سینہ میںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- یاں زخمیٔ نگاہ کے جینے پہ حرف ہےہے دل پر اپنے زخم کہ سینے پہ حرف ہےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- یا وصل میں رکھیے مجھے یا اپنی ہوس میںجو چاہئے سو کیجیے ہوں آپ کے بس میںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- یہ کیا کہ ان کے دل کو نہ زنہار توڑیئےسو بار جا کے جوڑئیے سو بار توڑیئےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- یہ نہیں برق اک فرنگی ہےرعد و باراں فسون جنگی ہےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- اشک مژگان تر کی پونجی ہےیہ ثمر اس شجر کی پونجی ہےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- پکڑی کسی سے جاوے نسیم اور صبا بندھےمولیٰ کرے کچھ اپنی بھی اب تو ہوا بندھےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- ترک کر اپنے ننگ و نام کو ہمجاتے ہیں واں فقط سلام کو ہمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- جاڑے میں کیا مزہ ہو وہ تو سمٹ رہے ہوںاور کھول کر رضائی ہم بھی لپٹ رہے ہوںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- چاہتا ہوں تجھے نبیؐ کی قسمحضرت مرتضیٰ علی کی قسمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیںکہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹاکہ پڑا ہے آج خم میں قدح شراب الٹاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- مل مجھ سے اے پری تجھے قرآن کی قسمدیتا ہوں تجھ کو تخت سلیمان کی قسمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سےسو کچھ ایسی ڈھب سے لڑائی ہے لڑے شیر جیسے کہ شیر سےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- یہ کس سے چاندنی میں ہم بہ زیر آسماں لپٹےکہ باہم عرش پر مارے خوشی کے قدسیاں لپٹےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)