Poetry
- کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دےموت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- لطف ساماں عتاب یار بھی ہےمحرم عشق شرمسار بھی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلےدی سزا عشق نے ہر جرم و خطا سے پہلےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- موت اک گیت رات گاتی تھیزندگی جھوم جھوم جاتی تھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- میکدے میں آج اک دنیا کو اذن عام تھادور جام بے خودی بیگانۂ ایام تھاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیںٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیاحجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- وقت غروب آج کرامات ہو گئیزلفوں کو اس نے کھول دیا رات ہو گئیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- وہ چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیںوہ اک شخص کے یاد آنے کی راتیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائےچھوٹ جائے تو وہی اپنا گریباں ہو جائےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیاخود بڑھ کے عشق نے مجھے میرا پتا دیاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہر عقدۂ تقدیر جہاں کھول رہی ہےہاں دھیان سے سننا یہ صدی بول رہی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہےہر نغمہ سر بزم طرب اور ہی کچھ ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہو کے سر تا بہ قدم عالم اسرار چلاجو چلا مے کدۂ عشق سے سرشار چلاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہے ابھی مہتاب باقی اور باقی ہے شراباور باقی میرے تیرے درمیاں صدہا حسابFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ تو نہیں کہ غم نہیںہاں مری آنکھ نم نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ سرمئی فضاؤں کی کنمناہٹیںملتی ہیں مجھ کو پچھلے پہر تیری آہٹیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ موت و عدم کون و مکاں اور ہی کچھ ہےسن لے کہ مرا نام و نشاں اور ہی کچھ ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغترے خیال کی خوشبو سے بس رہے ہیں دماغFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ راتیاد آ رہے ہیں عشق کو ٹوٹے تعلقاتFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- دنیا کو انقلاب کی یاد آ رہی ہے آجتاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے آجFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئیسبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- مری صدا ہے گل شمع شام آزادیسنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہکیہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئےشباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ مست مست گھٹا، یہ بھری بھری برساتتمام حد نظر تک گھلاوٹوں کا سماںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- آج بہت اداس ہوںیوں کوئی خاص غم نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی ہم عصروجب بھی ان کو دھیان آئے گا تم نے فراقؔ کو دیکھا ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔجب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیںکتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہییاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- اسی کھنڈر میں کہیں کچھ دیے ہیں ٹوٹے ہوئےانہیں سے کام چلاؤ بڑی اداس ہے راتFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- اہل زنداں کا یہ مجمع ہے ثبوت اس کا فراقؔکہ بکھر کر بھی یہ شیرازہ پریشاں نہ ہواچپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- بہت دنوں میں محبت کو یہ ہوا معلومجو تیرے ہجر میں گزری وہ رات رات ہوئیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- پال لے اک روگ ناداں زندگی کے واسطےصرف صحت کے سہارے عمر تو کٹتی نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- پردۂ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیےہائے ظالم ترا انداز کرم کیا کہیےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دلاتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- تم اسے شکوہ سمجھ کر کس لیے شرما گئےمدتوں کے بعد دیکھا تھا تو آنسو آ گئےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہوتم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- تیرے آنے کی کیا امید مگرکیسے کہہ دوں کہ انتظار نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- جس میں ہو یاد بھی تری شاملہائے اس بے خودی کو کیا کہیےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- دیکھ رفتار انقلاب فراقؔکتنی آہستہ اور کتنی تیزFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- رونے کو تو زندگی پڑی ہےکچھ تیرے ستم پہ مسکرا لیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- زندگی کیا ہے آج اسے اے دوستسوچ لیں اور اداس ہو جائیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- سانس لیتی ہے وہ زمین فراقؔجس پہ وہ ناز سے گزرتے ہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگہم لوگ بھی فقیر اسی سلسلے کے ہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیںزندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- کون یہ لے رہا ہے انگڑائیآسمانوں کو نیند آتی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)