اسی کھنڈر میں کہیں کچھ دیے ہیں ٹوٹے ہوئے

Firaq Gorakhpuri (1896–1982)

اسی کھنڈر میں کہیں کچھ دیے ہیں ٹوٹے ہوئے

انہیں سے کام چلاؤ بڑی اداس ہے رات