Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Majbub

ہزج مثمّن اخرب مکفوف مجبوب
Poet
Meter
Clear
  1. کچھ میرؔ تکلف تو نہیں اپنے تئیںان روزوں نہیں پاتے کہیں اپنے تئیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  2. گر یار سے ہر روز ملاقات نہیںاور ہو بھی گئی تو پھر مدارات نہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  3. ہم دیکھ کے تم سے رخ آرام میاںخوش رہتے ہیں دل میں سحر و شام میاںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  4. افضل کوئی مرتضیٰ سے ہمت میں نہیںاس طرح کا بندہ تو حقیقت میں نہیںMir Anees (1803–1874)
  5. قطرے ہیں یہ سب جس کے وہ دریا ہے علیپنہاں ہے کبھی تو گاہ پیدا ہے علیMir Anees (1803–1874)
  6. رخصت ہوا وہ اشک ہمارے نکل آئےخورشید کے چھپتے ہی ستارے نکل آئےBal Mukund Besabr (1812–1885)
  7. آلودہ خیالات میں تیرے ہوں مدامطاعت سے غرض نہ کچھ عبادت سے کامQalaq Meerathi (1835–1880)
  8. خود رفتہ ہو بدمست ہو کیسا ہے مزاجکل آپ کی کیا وضع تھی کیا رنگ ہے آجQalaq Meerathi (1835–1880)
  9. کہتا ہوں خدا لگتی عقیدے کے خلافہے تیرا خطاوار سزاوار معافQalaq Meerathi (1835–1880)
  10. عالم و جاہل میں کیا فرق ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  11. اب قوم کی جو رسم ہے سو اول جلولفاسد ہوئے قاعدے تو بگڑے معمولIsmail Meeruthi (1844–1917)
  12. اپنے ہی دل اپنوں کا دکھاتے ہیں بہتڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بناتے ہیں بہتIsmail Meeruthi (1844–1917)
  13. اسلاف کا حصہ تھا اگر نام و نمودپڑھتے پھرو اب ان کے مزاروں پہ درودIsmail Meeruthi (1844–1917)
  14. کیا مفت زاہدوں نے الزام لیاتسبیح کے دانوں سے عبث کام لیاShad Azimabadi (1846–1927)
  15. اے نوش لب و ماہ رخ و زہرہ جبیںآئنہ ہی ترے رخ پہ حیران نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  16. باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زوربن جائے نہ کیوں عقدۂ خاطر ہر پورسید یوسف علی خاں ناظم
  17. میں نفس پرستی سے سدا خوار رہاظلمت کدۂ غم میں گرفتار رہاساحر دہلوی
  18. کہتے ہو کہ کر لیں گے ہم اس کام کو کلایسا نہ ہو کہ کل بھی ہاتھ سے جائے نکلسید محمد عبد الغفور شہباز