Poetry
Kamil Musamman Salim
کامل مثمن سالم- مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیںکوئی اور بھی ہے ترے سوا تو اگر نہیں تو جہاں نہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہےدل داغ گشتہ کباب ہے جگر گداختہ آب ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کہیں بیٹھنے دے دِل اب مُجھے جُو حواس ٹک میں بجا کروںنہیں تاب مُجھ میں کے جب تلک تُو پھرے تُو میں بھی پھرا کروںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کئی دن سے ہم بھی ہیں دیکھے اسے ہم پہ ناز و عتاب ہےکبھی منہ بنا کبھی رخ پھرا کبھی چیں جبیں پہ شتاب ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہوئی شکل اپنی یہ ہم نشیں جو صنم کو ہم سے حجاب ہےکبھی اشک ہے کبھی آہ ہے کبھی رنج ہے کبھی تاب ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہوئے خوش ہم ایک نگار سے ہوئے شاد اس کی بہار سےکبھی شان سے کبھی آن سے کبھی ناز سے کبھی پیار سےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ابھی اپنے مرتبۂ حسن سے میاں با خبر تو ہوا نہیںکہ غزل سرا ترے باغ میں کوئی مرغ تازہ نوا نہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ترے منہ چھپاتے ہی پھر مجھے خبر اپنی کچھ نہ ذری رہینہ فراق تھا نہ وصال تھا رہی اک تو بے خبری رہیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کہیں مغز اس کے میں صبح دم تری بوئے زلف رسا گئیترے کوچے سے جو چمن تلک گل اڑاتی خاک صبا گئیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سےسو کچھ ایسی ڈھب سے لڑائی ہے لڑے شیر جیسے کہ شیر سےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہےکروں اس ستم کو میں کیا بیاں مرا غم سے سینہ فگار ہےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دلوہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیںوہ دہن ہوں جس میں زباں نہیں وہ جرس ہوں جس میں صدا نہیںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوMomin Khan Momin (1800–1852)
- کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوسنہیں اپنا بس نہیں اپنا بس نہیں اپنا نہیں اپنا بسHatim Ali Mehr (1815–1879)
- تجھے کل ہی سے نہیں بے کلی نہ کچھ آج ہی سے رہا قلقتری عمر ساری یوں ہی کٹی تو ہمیشہ یوں ہی جیا قلقؔQalaq Meerathi (1835–1880)
- وہی وعدہ ہے وہی آرزو وہی اپنی عمر تمام ہےوہی چشم ہے وہی راہ ہے وہی صبح ہے وہی شام ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- وہ کسی سے تم کو جو ربط تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہ کسی پہ تھا کوئی مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوZaheer Dehlvi (1835–1911)
- وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی منزلیں اور وہی مرحلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ترا آستاں جو نہ مل سکا تری رہ گزر کی زمیں سہیہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے جو وہاں نہیں تو کہیں سہیShad Azimabadi (1846–1927)
- تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہےترا جلوہ تیرا ہے پردہ در تیرے رخ پہ کیوں یہ نقاب ہےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوںکسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوںMuztar Khairabadi (1865–1927)
- وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئیترے مست بادۂ شوق نے نہ کبھی پڑھی نہ ادا ہوئیMuztar Khairabadi (1865–1927)
- یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروںاگر اس پہ بھی نہ نبھی تو پھر مرے کردگار میں کیا کروںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہےتری زلف و رخ کا فریفتہ کہیں صبح ہے کہیں شام ہےBedam Warsi (1876–1936)
- تہِ دام بھی غزل آشنا رہے طائرانِ چمن تو کیاجو فغاں دلوں میں تڑپ رہی تھی، نوائے زیرِ لبی رہیAllama Iqbal (1877–1938)
- یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہےیہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- جسے لوگ کہتے ہیں تیرگی وہی شب حجاب سحر بھی ہےجنہیں بے خودئ فنا ملی انہیں زندگی کی خبر بھی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہے مذاق زندہ دلی یہی اسی مصلحت نے مزا دیانہ جدا ہو دل سے کسک کبھی وہ مزاج درد بنا دیاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہےجو تجھے بنا دے غم آشنا مجھے اس اثر کی تلاش ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اگر اے نسیمِ سحر ترا! ہو گزر دیار ِحجاز میںمری چشمِ تر کا سلام کہنا حضورِ بندہ نواز میںAkhtar Shirani (1905–1948)
- ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہیترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہےJalaluddin Akbar (1905–1940)
- تم اسی کو وجہ طرب کہو ہم اسی کو باعث غم کہیںوہی اک فسانۂ عشق ہے کبھی تم کہو کبھی ہم کہیںQamar Moradabadi (1910–1987)
- وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیاوہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیںجسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- ہمیں جن کی دید کی آس تھی وہ ملے تو راہ میں یوں ملےمیں نظر اٹھا کے تڑپ گیا وہ نظر اٹھا کے گزر گئےShakeel Badayuni (1916–1970)
- اس ادا سے بھی ہوں میں آشنا تجھے اتنا جس پہ غرور ہےمیں جیوں گا تیرے بغیر بھی مجھے زندگی کا شعور ہےQateel Shifai (1919–2001)
- وہی گیسوؤں کی اڑان ہے وہی عارضوں کا نکھار ہےیہ کسی کی شان ورود ہے کہ مری نظر کا وقار ہےQateel Shifai (1919–2001)
- تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہےتری اک نگاہ کی بات ہے مری زندگی کا سوال ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئےترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہےمجھے منزلوں سے گریز ہے میرا راستہ کوئی اور ہےDarshan Singh (1921–1989)
- جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہایہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہاAda Jafri (1924–2015)
- کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہامری رات بھی ترے نام تھی اسے کس نے تیرہ شبی کہاAda Jafri (1924–2015)
- خزاں کا کوئی وجود ہے نہ چمن میں رنگ بہار ہےجسے جانتا ہے تو کارواں وہ تری نظر کا غبار ہےBaldev Raaj (b. 1924)
- تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیاشب انتظار گزر گئی غم انتظار نہیں گیاQaisarul Jafri (1926–2005)
- نہ سوال جام نہ ذکر مے اسی بانکپن سے چلے گئےترا ظرف دیکھ کے تشنہ لب تری انجمن سے چلے گئےQaisarul Jafri (1926–2005)
- مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دےبس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دےKaleem Aajiz (1926–2015)
- مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاںوہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاںKaleem Aajiz (1926–2015)
- وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟تو اسی کو پیار کرے ہے کیوں یہ کلیمؔ تجھ کو ہوا ہے کیا؟Kaleem Aajiz (1926–2015)
- یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جاوہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جاKaleem Aajiz (1926–2015)