Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Kamil Musamman Salim

کامل مثمن سالم
Poet
Meter
Clear
  1. مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیںکوئی اور بھی ہے ترے سوا تو اگر نہیں تو جہاں نہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  2. رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہےدل داغ گشتہ کباب ہے جگر گداختہ آب ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  3. کہیں بیٹھنے دے دِل اب مُجھے جُو حواس ٹک میں بجا کروںنہیں تاب مُجھ میں کے جب تلک تُو پھرے تُو میں بھی پھرا کروںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  4. کئی دن سے ہم بھی ہیں دیکھے اسے ہم پہ ناز و عتاب ہےکبھی منہ بنا کبھی رخ پھرا کبھی چیں جبیں پہ شتاب ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  5. ہوئی شکل اپنی یہ ہم نشیں جو صنم کو ہم سے حجاب ہےکبھی اشک ہے کبھی آہ ہے کبھی رنج ہے کبھی تاب ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  6. ہوئے خوش ہم ایک نگار سے ہوئے شاد اس کی بہار سےکبھی شان سے کبھی آن سے کبھی ناز سے کبھی پیار سےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  7. ابھی اپنے مرتبۂ حسن سے میاں با خبر تو ہوا نہیںکہ غزل سرا ترے باغ میں کوئی مرغ تازہ نوا نہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  8. ترے منہ چھپاتے ہی پھر مجھے خبر اپنی کچھ نہ ذری رہینہ فراق تھا نہ وصال تھا رہی اک تو بے خبری رہیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  9. کہیں مغز اس کے میں صبح دم تری بوئے زلف رسا گئیترے کوچے سے جو چمن تلک گل اڑاتی خاک صبا گئیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  10. یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سےسو کچھ ایسی ڈھب سے لڑائی ہے لڑے شیر جیسے کہ شیر سےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  11. گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہےکروں اس ستم کو میں کیا بیاں مرا غم سے سینہ فگار ہےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  12. کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دلوہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  13. مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیںوہ دہن ہوں جس میں زباں نہیں وہ جرس ہوں جس میں صدا نہیںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  14. وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوMomin Khan Momin (1800–1852)
  15. کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوسنہیں اپنا بس نہیں اپنا بس نہیں اپنا نہیں اپنا بسHatim Ali Mehr (1815–1879)
  16. تجھے کل ہی سے نہیں بے کلی نہ کچھ آج ہی سے رہا قلقتری عمر ساری یوں ہی کٹی تو ہمیشہ یوں ہی جیا قلقؔQalaq Meerathi (1835–1880)
  17. وہی وعدہ ہے وہی آرزو وہی اپنی عمر تمام ہےوہی چشم ہے وہی راہ ہے وہی صبح ہے وہی شام ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  18. وہ کسی سے تم کو جو ربط تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہ کسی پہ تھا کوئی مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوZaheer Dehlvi (1835–1911)
  19. وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی منزلیں اور وہی مرحلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوIsmail Meeruthi (1844–1917)
  20. ترا آستاں جو نہ مل سکا تری رہ گزر کی زمیں سہیہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے جو وہاں نہیں تو کہیں سہیShad Azimabadi (1846–1927)
  21. تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہےترا جلوہ تیرا ہے پردہ در تیرے رخ پہ کیوں یہ نقاب ہےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  22. نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوںکسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  23. وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئیترے مست بادۂ شوق نے نہ کبھی پڑھی نہ ادا ہوئیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  24. یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروںاگر اس پہ بھی نہ نبھی تو پھر مرے کردگار میں کیا کروںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  25. نہ تو اپنے گھر میں قرار ہے نہ تری گلی میں قیام ہےتری زلف و رخ کا فریفتہ کہیں صبح ہے کہیں شام ہےBedam Warsi (1876–1936)
  26. تہِ دام بھی غزل آشنا رہے طائرانِ چمن تو کیاجو فغاں دلوں میں تڑپ رہی تھی، نوائے زیرِ لبی رہیAllama Iqbal (1877–1938)
  27. یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہےیہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  28. جسے لوگ کہتے ہیں تیرگی وہی شب حجاب سحر بھی ہےجنہیں بے خودئ فنا ملی انہیں زندگی کی خبر بھی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  29. ہے مذاق زندہ دلی یہی اسی مصلحت نے مزا دیانہ جدا ہو دل سے کسک کبھی وہ مزاج درد بنا دیاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
  30. وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہےجو تجھے بنا دے غم آشنا مجھے اس اثر کی تلاش ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  31. اگر اے نسیمِ سحر ترا! ہو گزر دیار ِحجاز میںمری چشمِ تر کا سلام کہنا حضورِ بندہ نواز میںAkhtar Shirani (1905–1948)
  32. ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہیترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہےJalaluddin Akbar (1905–1940)
  33. تم اسی کو وجہ طرب کہو ہم اسی کو باعث غم کہیںوہی اک فسانۂ عشق ہے کبھی تم کہو کبھی ہم کہیںQamar Moradabadi (1910–1987)
  34. وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیاوہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  35. مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیںجسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  36. ہمیں جن کی دید کی آس تھی وہ ملے تو راہ میں یوں ملےمیں نظر اٹھا کے تڑپ گیا وہ نظر اٹھا کے گزر گئےShakeel Badayuni (1916–1970)
  37. اس ادا سے بھی ہوں میں آشنا تجھے اتنا جس پہ غرور ہےمیں جیوں گا تیرے بغیر بھی مجھے زندگی کا شعور ہےQateel Shifai (1919–2001)
  38. وہی گیسوؤں کی اڑان ہے وہی عارضوں کا نکھار ہےیہ کسی کی شان ورود ہے کہ مری نظر کا وقار ہےQateel Shifai (1919–2001)
  39. تجھے کیا سناؤں میں دل ربا ترے سامنے مرا حال ہےتری اک نگاہ کی بات ہے مری زندگی کا سوال ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  40. مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئےترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  41. تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہےمجھے منزلوں سے گریز ہے میرا راستہ کوئی اور ہےDarshan Singh (1921–1989)
  42. جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہایہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہاAda Jafri (1924–2015)
  43. کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہامری رات بھی ترے نام تھی اسے کس نے تیرہ شبی کہاAda Jafri (1924–2015)
  44. خزاں کا کوئی وجود ہے نہ چمن میں رنگ بہار ہےجسے جانتا ہے تو کارواں وہ تری نظر کا غبار ہےBaldev Raaj (b. 1924)
  45. تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیاشب انتظار گزر گئی غم انتظار نہیں گیاQaisarul Jafri (1926–2005)
  46. نہ سوال جام نہ ذکر مے اسی بانکپن سے چلے گئےترا ظرف دیکھ کے تشنہ لب تری انجمن سے چلے گئےQaisarul Jafri (1926–2005)
  47. مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دےبس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دےKaleem Aajiz (1926–2015)
  48. مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاںوہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاںKaleem Aajiz (1926–2015)
  49. وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟تو اسی کو پیار کرے ہے کیوں یہ کلیمؔ تجھ کو ہوا ہے کیا؟Kaleem Aajiz (1926–2015)
  50. یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جاوہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جاKaleem Aajiz (1926–2015)