Poetry
- اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سےرونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سےیوسف ظفر
- بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤںورنہ میں پھاند کے ہی سات سمندر جاؤںیوسف ظفر
- پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئےپلکوں پہ اشک بن کے ٹھہر جانا چاہئےیوسف ظفر
- پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہواگرچہ میری صدا بھی صدا بہ صحرا ہویوسف ظفر
- تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیاتخریب کائنات کا ساماں کیا گیایوسف ظفر
- جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہےاس کو دھیان میں لاؤں کیسے وہ سپنوں کا باسی ہےیوسف ظفر
- جو حروف لکھ گیا تھا مری آرزو کا بچپنانہیں دھو سکے نہ دل سے مری زندگی کے ساونیوسف ظفر
- شہر لگتا ہے بیابان مجھےکہیں ملتا نہیں انسان مجھےیوسف ظفر
- کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میںدیکھا ہے تمہیں کو عمر بھر میںیوسف ظفر
- میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سےتم نے پوچھا نہیں بہاروں سےیوسف ظفر
- میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہزندگی میرے لیے تو ہے کہاں آوارہیوسف ظفر
- وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہواکہ اس کا غم ہی مری زیست کا بہا نہ ہوایوسف ظفر
- ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیںخوش ہیں کہ ترے غم کے سزا وار ہوئے ہیںیوسف ظفر
- ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھیتیرا غم بھی ہے مجھے اور غم تنہائی بھییوسف ظفر
- یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤپیارو پھر فصل بہاراں ہے قریب آ جاؤیوسف ظفر
- خبریوسف ظفر
- شکایتیوسف ظفر
- سوالییوسف ظفر
- رنگ گفتگویوسف ظفر
- انار کلییوسف ظفر
- وادی نیلیوسف ظفر
- قدر و قیمتیوسف ظفر
- مینار سکوتیوسف ظفر