Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سےرونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سےیوسف ظفر
  2. بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤںورنہ میں پھاند کے ہی سات سمندر جاؤںیوسف ظفر
  3. پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئےپلکوں پہ اشک بن کے ٹھہر جانا چاہئےیوسف ظفر
  4. پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہواگرچہ میری صدا بھی صدا بہ صحرا ہویوسف ظفر
  5. تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیاتخریب کائنات کا ساماں کیا گیایوسف ظفر
  6. جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہےاس کو دھیان میں لاؤں کیسے وہ سپنوں کا باسی ہےیوسف ظفر
  7. جو حروف لکھ گیا تھا مری آرزو کا بچپنانہیں دھو سکے نہ دل سے مری زندگی کے ساونیوسف ظفر
  8. شہر لگتا ہے بیابان مجھےکہیں ملتا نہیں انسان مجھےیوسف ظفر
  9. کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میںدیکھا ہے تمہیں کو عمر بھر میںیوسف ظفر
  10. میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سےتم نے پوچھا نہیں بہاروں سےیوسف ظفر
  11. میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہزندگی میرے لیے تو ہے کہاں آوارہیوسف ظفر
  12. وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہواکہ اس کا غم ہی مری زیست کا بہا نہ ہوایوسف ظفر
  13. ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیںخوش ہیں کہ ترے غم کے سزا وار ہوئے ہیںیوسف ظفر
  14. ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھیتیرا غم بھی ہے مجھے اور غم تنہائی بھییوسف ظفر
  15. یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤپیارو پھر فصل بہاراں ہے قریب آ جاؤیوسف ظفر
  16. خبریوسف ظفر
  17. شکایتیوسف ظفر
  18. سوالییوسف ظفر
  19. رنگ گفتگویوسف ظفر
  20. انار کلییوسف ظفر
  21. وادی نیلیوسف ظفر
  22. قدر و قیمتیوسف ظفر
  23. مینار سکوتیوسف ظفر