Poetry
- آ رہے ہیں راستے پر آ رہے ہیںوہ جنہیں برسوں سے ہم سمجھا رہے ہیںYasmeen Moomal (b. 1985)
- اس ادا سے ہاتھ اپنے مل رہی ہے زندگیخوف کی پرچھائیوں میں پل رہی ہے زندگیYasmeen Moomal (b. 1985)
- اس کے بھی دل میں شاید ڈر رہتا ہےجس ظالم کے ہاتھ میں خنجر رہتا ہےYasmeen Moomal (b. 1985)
- بتاؤں کیسے تمہیں کیسی یار گزری ہےتمہاری بات مجھے ناگوار گزری ہےYasmeen Moomal (b. 1985)
- پھر سے ممکن ہو تو رشتوں کو سنوارا جائےعشق کو دل سے کبھی یوں نہ اتارا جائےYasmeen Moomal (b. 1985)
- جو چہرے چمکتے تھے وہ مرجھائے ہوئے ہیںلگتا ہے بہاروں کے یہ ٹھکرائے ہوئے ہیںYasmeen Moomal (b. 1985)
- زیست کے اندھیرے میں روشنی نہیں آتییاد آج کل مجھ کو آپ کی نہیں آتیYasmeen Moomal (b. 1985)
- کیا علاج غم کا بھی اس کو ہنر آتا نہیںچارہ گر میری طرف کیوں بھول کر آتا نہیںYasmeen Moomal (b. 1985)
- ہزاروں کوششیں کیں آزما کرنہ جی پائی کبھی تم کو بھلا کرYasmeen Moomal (b. 1985)
- یہی دعا ہے یہی آرزو دکھائی دےہٹے یہ خاک مجھے خوب رو دکھائی دےYasmeen Moomal (b. 1985)