آ رہے ہیں راستے پر آ رہے ہیں
Yasmeen Moomal (b. 1985)آ رہے ہیں راستے پر آ رہے ہیں
وہ جنہیں برسوں سے ہم سمجھا رہے ہیں
ہیں بہت الجھے ہوئے الفت کے رستے
رفتہ رفتہ ہم انہیں سلجھا رہے ہیں
وہ ہمیں پر پھینکنے لگتے ہیں پتھر
آئنہ جن کو بھی ہم دکھلا رہے ہیں
کچھ پرانی حسرتوں کی لاش ہے یہ
ہم جسے کاندھے پہ لے کر جا رہے ہیں
لے رہی ہے زندگی کروٹ پہ کروٹ
تھپکیاں دے کر اسے بہلا رہے ہیں
آب الفت سے کوئی سیراب کر دے
خواب آنکھوں کے مرے مرجھا رہے ہیں
یاسمیںؔ بے ساختہ ان سے یہ کہہ دو
آپ ہی بس میرے دل کو بھا رہے ہیں