زیست کے اندھیرے میں روشنی نہیں آتی

Yasmeen Moomal (b. 1985)

زیست کے اندھیرے میں روشنی نہیں آتی

یاد آج کل مجھ کو آپ کی نہیں آتی

موت سے بہت پہلے لوگ مرتے دیکھے ہیں

راس ہر کسی کو یہ زندگی نہیں آتی

آئنہ ہوں الفت کا میں اسی لیے مجھ کو

دوستی تو آتی ہے دشمنی نہیں آتی

آپ جیسے کرتے ہیں بھول کر زمانے کو

اس طرح مجھے کرنی بندگی نہیں آتی

جو بھی کام کرتے ہیں دل لگا کے کرتے ہیں

آپ کی قسم ہم کو دل لگی نہیں آتی

جب تلک شجر کو ہم سینچتے نہیں جڑ تک

تب تلک تو اس میں بھی تازگی نہیں آتی

کر دیا ہے زخموں نے یاسمیںؔ کا دل پتھر

مسکراتے ہونٹوں پر اب ہنسی نہیں آتی